بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عنائزہ نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

عنائزہ نام رکھنا کیسا ہے؟ عین پر زبر ہے (Anaizah )

جواب

’’عنائزہ‘‘ عربی زبان میں ’’عنیزۃ‘‘ کی جمع ہو تو اس کا معنی ہے: بہت دور ہونے والی عورتیں۔ اور  ’’عنز‘‘  عربی زبان میں بکری کو کہتے ہیں، اس کی جمع ’’عناز‘‘ بھی آتی ہے۔بہر صورت یہ نام مناسب نہیں ہے،اس کی جگہ صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام یا کوئی اچھا بامعنی نام رکھ لیں۔

لسان العرب میں ہے:

العَنْزُ : الماعِزَةُ ، وهي الأُنثى من المِعْزَى والأَوْعالِ والظِّباءِ ، والجمع أَعْنُزٌ وعُنُوزٌ وعِنازٌ ، وخص بعضهم بالعِنازِ جمع عَنْزِ الظِّباءِ،  وأَنشد ابن الأَعرابي:

أبُهَيُّ، إِنَّ العَنْزَ تَمْنَع رَبَّها مِن أَنْ يُبَيِّتَ        جارَهُ بالحائِل أَراد يا بُهَيَّةُ فرخَّم

والمعنى أَن العنز يتبلغ أَهلُها بلبنها فتكفيهم الغارةَ على مال الجار المستجير بأَصحابها .

وحائل : أَرض بعينها ، وأَدخل عليها الأَلف واللام للضرورة ، ومن أَمثال العرب : حَتْفَها تَحْمِلُ ضأْنٌ ...". ( لسان العرب،ج:5،ص:445،ط:دارالکتب العلمیۃ) فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144110201124

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں