بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

امرت ایمان نام رکھنا


سوال

امرت ایمان نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

”امرت“  (اَم رِتْ)  یہ  اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے،  اس کے معنی ہیں: اکسیر، آب ِ حیات،  شربت ، شہد،  اور بہت لذیذ اور شریں چیز ۔(از فیروزاللغات)،  اور ”ایمان “ کے معنی ہیں :  اعتماد، یقین اور تصدیق کرنا۔ معنی کے درست ہونے کی وجہ سے فی نفسہ  یہ  نام رکھنا جائز  لیکن  زیادہ بہتر نہیں ؛ کیوں کہ عام طورپر لوگ آدھا نام لے کر پکار تے ہیں، لہذا اگر کوئی یہ پکارے کہ (ایمان ) گھر میں ہے، تو آگے سے جواب یہ مل جائے کہ: (ایمان) گھر میں  نہیں ، تویہ ایک قسم بدفالی ہے ،جو کہ بری بات ہے، اس لیے زیادہ  بہتر یہ کہ بچی کا  اس کے علاوہ کوئی اور اچھا بامعنی نام رکھ لیا جائے، بالخصوص صحابیات رضوان اللہ علیہن اجمعین کے ناموں پر  نام رکھنا باعث ِ برکت ہے۔ 

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا منصور بن المعتمر، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن عميلة، عن سمرة بن جندب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لاتسمينّ غلامك يسارًا، و لا رباحًا، و لا نجيحًا، ولا أفلح»، فإنك تقول: أثم هو؟ فيقول: «لا،  إنما هن أربع فلاتزيدن علي»."

)سنن أبي داود، باب في تغيير الاسم القبيح، ج:4، صفحه: 290، رقم الحدیث:4958 ، ط: المكتبة العصرية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144405101010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں