بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قاتل کون تھا؟ منافقین کے نام کیا تھے؟


سوال

مجھے آپ سے دو سوالات کے بارے میں پوچھنا تھا:

  1.  عمار بن یاسر کا قاتل کیا ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تھے یا نہیں؟
  2. حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو جن 12 منافقین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ان کے نام کیا کیا تھے؟

جواب

1)حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قاتل کے متعلق امام ابن عبد البر (المتوفى: 463ھ) رحمہ اللہ  اپنی کتاب ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ابن جزٔ سکسکی اور ابو الغادیہ نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا، ابو الغادیہ نے آپ کو نیزہ مارہ، اور  ابن جزٔء نے آپ کا سر  کاٹ  لیا،يهي بات  علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے " البدایہ والنہایہ" میں لکھی ہےکہ  ابو الغادیہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا، اور ابن جزٔء نے آپ کا سرکاٹا۔

 علامہ ابن اثیر(المتوفى: 630ھ)رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے قاتل کے بارے میں اختلاف ہے ، ایک قول یہ ہے کہ ابو الغادیہ المزنی نے انہیں شہید کیا تھا، اور ایک قول  یہ ہے کہ: جہنی نے ان پر وار کیا اور وہ گر گئے، اور جب وہ گرے تو دوسرے شخص نے ان  کا سر کاٹ لیااور ایک قول یہ ہے کہ عقبہ بن عامر  الجہنی ، عمرو بن الحارث الخولانی اور شریک بن سلمہ المرادی نے  ان پر حملہ کرکے شہید کردیا۔

الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں ہے:

"وروى الشعبي، عن الأحنف بن قيس في خبر صفين قال: ثم حمل عمار، فحمل عليه ابن جَزء السكسكي، وأبو الغادية الفزاري، فأما أبو الغادية فطعنه، وأما ابن جزء فاحتز رأسه ... وذكر تمام الحديث".

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر: ترجمة عمار بن ياسر (3/ 1139)، ط. دار الجيل، بيروت، الطبعة الأولى: 1412 هـ =1992 م)

اسد الغابہ  فی معرفۃ الصحابہ میں ہے:

"وَقَدْ اختلف فِي قاتله، فقيل: قتله أَبُو الغادية المزني، وقيل: الجهني طعنه طعنة فسقط، فلما وقع أكب عَلَيْهِ آخر فاحتز رأسه، فأقبلا يختصمان، كل منهما يَقُولُ: أَنَا قتلته، فَقَالَ عَمْرو بْنُ العاص: والله إن يختصمان إلا فِي النار، والله لوددت أني مت قبل هَذَا اليوم بعشرين سنة. وقيل: حمل عَلَيْهِ عقبة بْن عَامِر الجهني، وعمرو بْن الحارث الخولاني، وشريك بْن سَلَمة المرادي، فقتلوه".

(ٲسد الغابة في معرفة الصحابة: ترجمة عمار بن ياسر (4/ 122)، ط. دار الكتب العلمية، الطبعة  الأولى: 1415هـ - 1994 م)

البدایہ والنہایہ میں ہے:

"وله أحاديث كثيرة في فضائله رضى الله عنه قتل بصفين عن إحدى وقيل ثلاث وقيل أربع وتسعين سنة طعنه أبو الغادية فسقط ثم أكب عليه رجل فاحتز رأسه".

(البدایۃ والنہایۃ: عمار بن ياسر (7/ 311)، ط. دار الفكر، عام النشر: 1407 هـ =  1986 م)

2) یہ  حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی، جس  کی بناء پر ان کو صاحب سرّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (آپ علیہ السلام کا راز دار) کہا جاتا ہے،  ان منافقین کے ناموں کاعلم کسی اور  کو نہیں تھا، علامہ عینی رحمہ اللہ نے ان کی تعداد سترہ بیان فرمائی ہے۔

"قوله: صاحب السر قال الكرماني أي سر النفاق وهو أنه ذكر أسماء المنافقين وعينهم لحذيفة وخصصه بهذه المنقبة إذ لم يطلع عليه غيره. قلت: المراد بالسر فيما قيل إنه أسر إلى حذيفة بأسماء سبعة عشر من المنافقين لم يعلمهم لأحد غيره، وكان عمر رضي الله عنه إذا مات من يشك فيه رصد حذيفة، فإن خرج في جنازته خرج وإلا لم يخرج".

(عمدة  القاري شرح صحيح البخاري: باب من ألقي له وسادة (22/ 262)، ط. دار احياء التراث العربي ، بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406100573

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں