بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

امير سليمان نام ركهنے كا حكم


سوال

کیا میں اپنے بچے کا نام أمیر سلیمان رکھ سکتا ہوں ؟اس لیے کہ میرے بڑے بیٹے کا نام أمیر حمزہ ہے ۔

جواب

"امیر" کا معنی بادشاہ ،شہزادہ،شاہی گھرانے کے فرد کے آتے ہیں ،اور سلیمان علیہ السلام  مشہور  نبی ہیں جن کو اللہ تعالی ایسی سلطنت عطا کی تھی جو پہلے کسی کو ملی اور نہ آئندہ ملے گی ،پس اس لحاظ سے امیر سلیمان نام رکھنا درست ہے ،البتہ صرف سلیمان نام رکھنا زیادہ موجب برکت ہے ۔

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الأمير) من يتولى الإمارة ومن ولد في بيت الإمارة (ج) أمراء والمشاور وأمير المؤمنين لقب لخليفة المسلمين."

(باب الہمزۃ،ج:1،ص:26،ط:دار الدعوۃ)

الفتاوى الهندية" میں ہے:

"«وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط."

(کتاب الکراہیۃ ،باب ثانی و عشرون ج،5، ص 362،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں