بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

عمامہ پہننا سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ


سوال

عمامہ پہننا سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟

جواب

واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جوعبادات کے قبیل سے ہیں  ان کوسننِ ہدیٰ اور سننِ غیر عادیہ    کہا جاتا ہے،اوروہ اعمال جن کا اختیار کرنا بطورِ عادت تھا،   ان کو سننِ زوائداور سننِ عادیہ کہا جاتا ہے، مثلاً  کپڑے پہننے کا طریقہ، کھانا کھانے کا طریقہ وغیرہ ۔سننِ زوائد کا تارک قابلِ ملامت نہیں، لیکن سننِ ہدی کا تارک قابلِ ملامت ہو گا، اور مسلسل ترک کرنے یا غفلت و تساہل کی وجہ سے ترک کرنے کی صورت میں گناہ گار بھی ہوگا۔

پس عمامہ پہنناسنت سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ میں سے نہیں ہےبلکہ  سننِ زوائد میں سے ہے۔ نیز اگر کوئی سنت کی نیت سے مستقل عمامہ باندھے تو  یہ نیت درست ہے، اور اسے سنت پر عمل کا اجر و ثواب ہوگا ان شاء اللہ تعالی!  تاہم یہ ضروری ہے کہ اسے لازم نہ سمجھے اور عمامہ نہ باندھنے والوں کو  سنت کے خلاف چلنے والا نہ سمجھے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءةً وكراهيةً كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لايوجب ذلك، كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده."

(ردالمحتار علی الدرالمختار ، ، کتاب الطہارة ، مطلب فی السنة وتعریفہا1/ 103ط: سعید) 

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"والسنة نوعان ‌سنة ‌هدى ‌كالأذان والإقامة وتركها يوجب الإساءة وسنة زائدة وتركها لا يوجبها كسنة النبي صلى الله عليه وسلم في قعوده وقيامه ولبسه وأكله وشربه ونحو ذلك كما في السراج ولكن الأولى فعلها لقوله تعالى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]."

(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح ،کتاب الصلاۃ ، باب الاذان ص: 194ط: دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں