بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اپنی آمدنی والدین کو دینا


سوال

میں معاش کے سلسلہ میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اورجوائنٹ فیملی سے ہوں اور سعودی عرب آنے میں پوری طرح فیملی کی مدد شامل حال رہی تمام اعتبارسے،  مسئلہ یہ ہے کہ میں پوری آمدنی والدین کے سپرد کر دیتا ہوں، کیا میں اپنی آمدنی میں سے کچھ رقم والدین کی اطلاع کے بغیر اپنے مستقبل کے لیے محفوظ کر سکتا ہوں، اس لیے کہ میرے پاس بھی بیوی بچے ہیں اور ان کا مستقبل میرے ہی ہاتھ میں ہے؟

جواب

جی ہاں!  کرسکتے ہیں،  اس لیے کہ آپ کی آمدنی آپ کی ملکیت ہے، اور اس میں اولین حق آپ کا اور آپ کے زیرِ کفالت افراد (بیوی بچے اور والدین) کا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة". (الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ١/ ٥٦٠، ط: رشيدية)

وفيه أيضاً:

"و بعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب و تدفع إلى الأم حتي تنفق علي الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقةً تدفع إلى غيرها لينفق على الولد". (١/ ٥٦١)

و فيه أيضاً:

"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب و لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم و ينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة، كذا في الخلاصة". (١/ ٥٦٢) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں