بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آلو کی ذخیرہ اندوزی


سوال

 میں ایک تاجر آدمی ہوں، جب اچھا سیزن ہوتاہے پانچ لاکھ کا آلو خرید کر کول سٹوریج  (آلو کے حفاظتی گودام) میں ڈال دیتا ہوں اور میری نیت یہ ہوتی ہے کہ جب اچھی قیمت ملے گی تو بازار میں بیچ دوں گا اور میری نیت ذخیرہ اندوزی کی بالکل نہیں ہوتی ہے اور نہ اس وقت مارکیٹ میں اس چیز(آلو) کی کمی بھی ہوتی ہے،تو کیا میرے لئے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور یہ عمل ذخیراندوزی میں تو شمار نہیں ہوتا؟

جواب

واضح رہے کہ جن چیزوں میں درج ذیل صفات پائی جائیں ان کی ذخیرہ اندوزی منع ہے:

(1) وہ چیز عرف عام میں انسان یا جانور کی غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہو۔ 

(2) یہ اشیاء ایسے مقامات سے خریدی گئی ہوں جن  کی پیداوار اس شہر میں آتی ہو۔

(3) ان کو ذخیرہ کرنے میں شہر والوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ 

لہذا اگر غذائی اجناس کی عام لوگوں کو ضرورت ہو اور اسے ذخیرہ کرنے کے نتیجے میں  وہ چیز آسانی سے نہ ملے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشانی لاحق ہو یا وہ اتنی مہنگی ہوجائے کہ عام لوگوں کے لیے عرفاً ضرر (نقصان) کا باعث ہو کہ عام لوگ اس کو پھر باآسانی خرید نہ سکتے ہوں ایسی صورت میں اس چیز کو ذخیرہ کرنا درست نہیں ہوگا۔

اور اگر  کوئی شخص  ذخیرہ اندوزی  یا عام لوگوں کو ضرر پہنچانے کی نیت کے بغیر  غلہ خرید کر رکھ لیتا ہے اور مارکیٹ میں وہ غلہ مناسب قیمت پر مل رہا ہے تو یہ ممنوع ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی بڑا شہر ہے کہ جس میں کوئی شخص غلہ وغیرہ لے کر محفوظ  کرلیتا ہے اور اس کے غلہ ذخیرہ کرنے سے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچتا یعنی غذائی بحران نہیں ہے، اور وہ جنس بازار میں دست یاب ہے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا؛  لہذا صورتِ مسئولہ  میں  مذکورہ شرائط مفقود ہونے کی  وجہ سے آلو  وغیرہ  کو خرید کر رکھ لینا بھی ممنوعہ ذخیرہ اندوزی میں داخل نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 398):

"(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره.

(قوله: وكره احتكار قوت البشر) الاحتكار لغةً: احتباس الشيء انتظارا لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس، وشرعاً: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوماً لقوله عليه الصلاة والسلام: «من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس». وفي رواية: «فقد برئ من الله وبرئ الله منه». قال في الكفاية: أي خذله والخذلان ترك النصرة عند الحاجة اهـ وفي أخرى: «فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لايقبل الله منه صرفاً ولا عدلاً». الصرف: النفل، والعدل الفرض، شرنبلالية عن الكافي وغيره. وقيل: شهراً. وقيل: أكثر. وهذا التقدير للمعاقبة في الدنيا بنحو البيع وللتعزير لا للإثم؛ لحصوله. وإن قلت: المدة وتفاوته بين تربصه لعزته أو للقحط والعياذ بالله تعالى! در منتقى، مزيداً، والتقييد بقوت البشر قول أبي حنيفة ومحمد، وعليه الفتوى، كذا في الكافي، وعن أبي يوسف: كل ما أضر بالعامة حبسه، فهو احتكار، وعن محمد الاحتكار في الثياب، ابن كمال.
(قوله: كتين وعنب ولوز) أي مما يقوم به بدنهم من الرزق ولو دخناً لا عسلاً وسمناً، در منتقى (قوله: وقت) بالقاف والتاء المثناة من فوق الفصفصة بكسر الفاءين وهي الرطبة من علف الدواب اهـ ح وفي المغرب: القت اليابس من الإسفست اهـ ومثله في القاموس، وقال في الفصفصة: بالكسر هو نبات فارسيته إسفست، تأمل (قوله: في بلد) أو ما في حكمه كالرستاق والقرية، قهستاني (قوله: يضر بأهله) بأن كان البلد صغيراً، هداية". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں