بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

المیزان انویسٹمنٹ


سوال

 میں بے روزگار ہوں اور دو سال سے نوکری تلاش کر رہا ہوں،  کیا میں اپنے ماہانہ گھر کے خرچے پورے کرنے کے لیے المیزان انویسٹمنٹ میں اپنے پیسے لگا سکتا ہوں ؟ کیا یہ جائز ہے ؟

جواب

ہماری تحقیق کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں میں سے کوئی بھی مکمل طور پر اسلامی نہیں ہے،  کچھ  نہ کچھ سقم ہر بینک کے معاملات میں باقی رہ جاتا ہے؛  اس لیے کسی بھی بینک سے تمویلی معاملہ کرنے کی صورت میں ناجائز معاہدہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے کسی بینک سے انویسٹمنٹ کا معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔  اگر قرض لینا ہو تو بینک کے علاوہ کسی اور  سے غیر سودی قرضہ حاصل کر لیں۔

اور حلال روز گار کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیے، پنج وقتہ نمازوں کی پابندی اور استغفار کی کثرت اور صبح و شام ایک ایک مرتبہ سورہ واقعہ اور سورہ طارق پڑھنے کا اہتمام کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201709

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے