بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اللّٰہ سے جان چھوٹ جائے کہنے کا حکم


سوال

اگر کوئی مسلمان کہہ دے کہ اللّٰہ سے جان چھوٹ جائے تو اس کا یہ کہنا کس زمرہ میں آتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ   کلمات اللہ  تعالی  کی شان میں گستاخی  اور توہین پر مشتمل ہیں ،ان الفاظ کا کہنے والا  دائرۂ اِسلام سے خارج ہے، اسے چاہیے کہ تجدیدِ ایمان ، اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق".

(الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج: 2، صفحہ: 258، ط: دارالفکر) 

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح.(قوله وتجديد النكاح) أي احتياطا كما في الفصول العمادية. وزاد فيها قسما ثالثا فقال: وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، وقوله احتياطا أي يأمره المفتي بالتجديد ليكون وطؤه حلالا باتفاق".

(باب المرتد، مطلب توبة اليأس مقبولة دون إيمان اليأس، ج: 4، صفحہ: 246 و247، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں