بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالی سے دعا مانگنے میں لفظ (آپ) کی جگہ ( تو)کا استعمال کرنا کیسا ہے؟


سوال

اللہ تعالی سے دعا مانگنے میں لفظ " آپ " کی جگہ " تو " کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی لیے  اصلاً تو لفظ مفر د کا استعمال ہی ہے، البتہ  تعظیماً اللہ کے لیے جمع کے الفاظ جیسے آپ، وغیرہ بھی درست ہے،لہذا لفظ آپ اور تو ،دونوں کا استعمال کرنے کی گنجائش  ہے،البتہ حالت دعا میں جو  عاجزی اور انکساری کی حالت ہے ،اس میں  تعظیماً "آپ "سے خطاب کرنابہتر واولی  ہوگا۔

" التيسير في التفسيرلنجم الدين عمر بن محمد بن أحمد النسفي الحنفي" میں ہے:

"ثم إنما ذكر الله تعالى هذا الفعل بصيغة الجمع من نفسه، وهو واحد لا شريك له؛ لأنه ‌خطاب ‌الملوك، والله تعالى مالك الملك وملك الملوك، فله استحقاقه ومنه إطلاقه. 

والمعهود من كلام الملوك أربعة أوجه: الإخبار على لفظة الواحد: إني فعلت كذا، وعلى لفظة الجمع: فعلنا كذا، وعلى ما لم يسم فاعله: رسم لكم كذا، وإضافة الفعل إلى اسمه على وجه المغايبة: أمركم سلطانكم بكذا. والقرآن نزل بلغة العرب، فجمع الله تعالى فيه هذه الوجوه كلها فيما أخبر به عن نفسه:فقال تعالى:{ذرني ومن خلقت وحيدا} الآية [المدثر: 11]،وهذا على صيغة الواحد. وقال تعالى: {إنا أنزلناه في ليلة القدر} [القدر: 1]،{إنا أرسلنا نوحا} [نوح: 1]،{إنا أعطيناك الكوثر} {إنا فتحنا لك فتحا مبينا} [الفتح: 1]، {إنا خلقنا} [الإنسان: 2]، وهذا على ‌صيغة ‌الجمع."

( التيسير في التفسيرلنجم الدين عمر بن محمد بن أحمد النسفي الحنفي (٤٦١ - ٥٣٧ هـ)، ج:1، ص:246، ط: دار اللباب للدراسات وتحقيق التراث، أسطنبول - تركيا)

"روح البيان لإسماعيل حقي  الحنفي" میں ہے:

"وصيغة الجمع في رزقنا مع انه تعالى واحد لا شريك له لانه ‌خطاب ‌الملوك والله تعالى مالك الملك وملك الملوك والمعهود من كلام الملوك اربعة أوجه الاخبار على لفظ الواحد نحو فعلت كذا وعلى لفظ الجمع فعلنا كذا وعلى ما لم يسم فاعله رسم لكم كذا واضافة الفعل الى اسمه على وجه المغايبة أمركم سلطانكم بكذا والقرآن نزل بلغة العرب فجمع الله فيه هذه الوجوه كلها فيما اخبر به عن نفسه فقال تعالى ذرني ومن خلقت وحيدا على صيغة الواحد وقال تعالى إنا أنزلناه في ليلة القدر على ‌صيغة ‌الجمع وقال فيما لم يسم فاعله كتب عليكم الصيام وأمثاله وقال في المغايبة الله الذي خلقكم وأمثاله كذا في التيسير ويقول الفقير جامع هذه اللطائف سمعت من شيخى العلامة أبقاه الله بالسلامة ان الافراد بالنظر الى الذات والجمع بالنظر الى الأسماء والصفات ولا ينافى كثرة الأسماء والصفات وحدة الذات إذ كل منها راجع إليها."

(روح البيان لإسماعيل حقي بن مصطفى الإستانبولي الحنفي الخلوتي , المولى أبو الفداء (ت ١١٢٧هـ)، ج:1، ص:38، ط: دار الفكر - بيروت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"اللہ تعالی کے لیے تعظیمی لفظ  بولنے سے جمع کا شبہ "

السوال:

(1012):ایک صاحب قرآن شریف مترجم حضرت تھانوی رحمہ اللہ منگوالائے،مگر جب کلام پاک منکوانے والے نے دیکھا کہ ترجمہ حضرت تھانوی کا ہے،اور بسم اللہ کا ترجمہ یہ ہے ،شروع کرتا ہوں اللہ کے نام پر جو بڑے  مہربان نہایت رحم والے ہیں،بس فورًا  کہہ دیا کہ یہ ترجمہ غلط ہے،اب آپ فرمادیں کہ یہ ترجمہ غلط ہےیا صحیح ؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

یہ ترجمہ صحیح ہے،مقام ادب میں اس طرح بولتے ہیں  کہ اللہ بڑے  مہربان نہایت رحم والے  ہیں ، اس سے جمعیت یا تعداد مقصود نہیں ہوتی ، فقط واللہ اعلم ۔"

حرر العبد محمودغفر لہ :

الجواب صحیح :بندہ محمد نظام الدین دارالعلوم  دیوبند

(فتاوی محمودیہ ،کتاب العلم ، ج:3، ص:341، ط:ادارۃ الفاروق)

وفیہ ایضاً:

"  اللہ تعالی کے لیے واحد کا لفظ استعمال کیا جائے یا جمع کا؟

السوال:

(9892) اللہ تعالی واحد ہے تو اللہ تعالی کرتا  دھرتا ، دیتا،  لیتا ، بولا جاتا ہے،  لیکن آج کل تبلیغی نصاب  وغیرہ اور تقریروں میں آپ لوگ کرتےدھرتے ،جمع بولتے اور لکھتے ہیں ،کیا چکر ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

تعظیم کے لیے تم اور آپ بولنا بھی درست ہے،  اللہ پاک نے بھی فرمایا ہے، (إنا أعطينك)، (إنا أنزلنا)،اور  (نحن أقرب )وغیرہ وغیرہ۔"

فقط واللہ تعالی اعلم ،

حررہ العبد محمود   غفر لہ دارالعلوم دیوبند

(فتاوی محمودیہ ،کتاب  العقائد، ما یتعلق باللہ تعالی،  ج:21، ص:37، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144406102244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں