بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا اللہ سے شکوہ کرنا جائز ہے؟


سوال

کیا اللہ سے شکوہ کرنا جائز ہے ؟جیسے اکثر کوئی مشکل آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں اے اللہ مجھے ہی کیوں یہ مشکل آئی اور اس کے لیے دلیل دیتے ہیں یعقوب علیہ السلام کی دعا ’’ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ‘‘ !

جواب

سوال میں مذکور  جس آیت  کو بنیاد بنا کر  اللہ تعالی سے شکوہ و شکایت جائز ہونے پر استدلال کیا جارہا ہے، اس کی تفسیر میں مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’میں تو اپنی فریاد اور رنج و غم کا اظہار تم سے یا کسی دوسرے سے نہیں کرتا ، بلکہ اللہ جل شأنہ کی ذات سے کرتا ہوں۔‘‘ 

(معارف القرآن: 5/ 131) 

اس سے واضح ہوتا کہ ہے حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تعالی سے  آزمائش اٹھانے کی دعا اور فریاد کررہے ہیں، ناکہ جزع و فزع کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کررہے ہیں، لہذا اللہ تعالی سے شکوہ بصورتِ فریاد تو جائز ہے ، شکوہ بصورتِ  جزع و فزع جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144206201345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں