بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ سے کم اور فوج سے زیادہ ڈرتا ہوں کہنے کا حکم


سوال

ایک تقریر میں ایک سیاسی راہ نمانے کہا کہ"میں اللہ سے کم اور فوج سے زیادہ ڈرتاہوں،"  کیا ااس جملے  سےوہ سیاسی راہ نما گناہ گار ہوگیا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ جملہ بظاہر حالتِ طبعی کا بیان ہے ،اس سے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،اللہ تعالی کا خوف عقلًا اور اعتقادًا  کم ہونا مذموم ہے ، البتہ بحیثیتِ  مسلمان  مناسب تعبیر کا استعمال کرنا زیادہ ضروری ہے، اور آئندہ کے لیے اس قسم کے الفاظ سے احتیاط کریں۔

روح المعانی میں ہے :

"وتخشى الناس ‌والله ‌أحق ‌أن ‌تخشاه "

بقي لنا فيما يتعلق بالآية شيء وهو ما قيل: إنه سبحانه وصف المرسلين الخالين عليهم الصلاة والسلام بأنهم لا يخشون أحدا إلا الله وقد أخبر عز وجل عن موسى عليه السلام بأنه قال: إننا نخاف أن يفرط علينا [طه: ٤٥] وهل خوف ذلك إلا خشية غير الله تعالى فما وجه الجمع؟ قلت: أجيب بأن الخشية أخص من الخوف.

قال الراغب: الخشية خوف يشوبه تعظيم وأكثر ما يكون ذلك عن علم بما يخشى منه، وذكر في ذلك عدة آيات منها هذه الآية، ونفي الخاص لا يستلزم نفي العام فقد يجتمع مع إثباته، وهذا أولى مما قيل في الجواب من أن الخشية أخص من الخوف لأنها الخوف الشديد والمنفي في الآية هاهنا هو ذلك لا مطلق الخوف المثبت فيما حكي عن موسى عليه السلام، وأجاب آخر بأن المراد بالخشية المنفية الخوف الذي يحدث بعد الفكر والنظر وليس من العوارض الطبيعية البشرية، والخوف المثبت هو الخوف العارض بحسب البشرية بادىء الرأي وكم قد عرض مثله لموسى عليه السلام ولغيره من إخوانه وهو مما لا نقص فيه كما لا يخفى على كامل وهو جواب حسن، وقيل: إن موسى عليه السلام إنما خاف أن يعجل فرعون عليه بما يحول بينه وبين إتمام الدعوة وإظهار المعجزة فلا يحصل المقصود من البعثة فهو خوف لله عز وجل، والمراد بما نفي عن المرسلين هو الخوف عنه سبحانه بمعنى أن يخاف غيره جل وعلا فيخل بطاعته أو يقدم على معصيته وأين هذا من ذاك فتأمل تولى الله تعالى هداك."

(سورہ احزاب،ج:11،ص:208،ط:دار الکتب العلمیۃ)

انفاس عیسی میں ہے:

" مخلوق کا ڈر خالق سے طبعاً زیادہ ہونا مذموم نہیں کہ غیر اختیاری ہے اور عقلاً واعتقاداً زیادہ ہونا البتہ مذموم ہے۔لأنتم ‌أشد ‌رهبة ‌في ‌صدورهم من الله کا بھی محمل ہے اور طبعاً زیادہ ہونے کی لم تین امر ہیں: ایک یہ کہ مخلوق محسوس ہے اور حق تعالیٰ محسوس نہیں اور طبعاً حاضر کا اثر زیادہ ہوتاہے غائب سے ۔ دوسرے یہ کہ مخلوق سے تسامح کی توقع کم ہے اور خالق سے زیادہ ہے۔ تیسرے یہ کہ مخلوق کی نظر میں ذلت ناگوار ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر  میں ذلیل ہونا گوارا۔"

(خوف و رجا ،ص:208،ط:مکتبہ البشری)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101673

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں