بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ پر اعتراض کرنے کا حکم


سوال

 اللہ  پر اعتراض کرنا کفرہے  یا شرک ؟  میں نے اپنے دوست سے کہا  اگر بیت اللہ شریف امریکہ میں ہوتی تو ہم حج کے لیے امریکہ جاتے،اس لفظ سے میں کافر تو نہیں ہو گیا ؟  یہ الفاظ میں نے کفر یا شرک کے ارادے سے نہیں کہا تھا۔  

جواب

واضح رہے کہ باری تعالیٰ کی ذات یاصفات پراعتراض کرنا،یا باری تعالیٰ کی دیےہوئے احکامات میں سے   کسی بھی حکم کو موردِ اعتراض بنانایہ کفر ہے  اس قسم کے کلمات کہنے والاشخص دائرہ اسلام  سے خارج ہو جاتا ہے۔ 
نیزبیت اللہ شریف کے امریکہ میں ہونے کی صورت میں بھی حج کے لیے جانے کے عزم کا اظہار بیان کے مطابق اگر واقعہ کسی منفی نظریےکے بنیاد پر نہیں ہے تو اس سے کہنے والے پر کفرتو لازم نہیں آیا،البتہ ایسی تعبیرات سے احتراز کرنا  لازم ہے،تاکہ نادانستہ کسی شخص سے اسلام کی توہین کا ارتکاب لازم نہ آجائے 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(و منها: ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته و غير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لايليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده و وعيده، أو جعل له شريكًا، أو ولدًا، أو زوجةً، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص و يكفر بقوله: يجوز أن يفعل الله تعالى فعلًا لا حكمة فيه و يكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر، كذا في البحر الرائق."

(كتاب السير، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج:2، ص:258، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں