بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ کرے تمہیں طلاق ہو جائے کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ "تم طلاق طلاق کرتی رہتی ہو،اللہ کرے کہ تمہیں طلاق ہو جائے"،آیا اس جملہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی بیوی پر مذکورہ جملے سے کوئی  طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ولو قال: إن أحب الله أو رضي أو أراد أو قدر لا يقع الطلاق كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطلاق،ج:1،ص:455،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144604101436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں