بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ کی عبادت محبت سے کرنی چاہیے یا عذاب کے خوف سے؟


سوال

 کیا نماز  اللہ  تعالیٰ کی محبت میں پڑھنی چاہیے یا اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ڈر سے ؟  قرآن وحدیث   کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں !

جواب

واضح رہے کہ ہر مسلمان کے لیے ضر ور ی ہے کہ اپنی عبادت  كو  اللہ کا حکم  پورا  کر نے کی نیت سے ادا کرے اور عمل میں ان  چند  چیزوں کو سامنے رکھے:  محبت ،خشیت  ا ورخوف  و  رَجاء،  اور اخلاص و خشوع اور تواضع و عظمت ، ان چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہو ئے اللہ تعالی کی عبادت کیا کرے اور اسے راضی کرنے میں مشغول رہے،  خشیت کہتے ہیں: ڈر و خوف کو، اور رجاء کا معنی ہے: امید، خوف کا معنی: عذاب کا ڈر ہے یا خشیت ہے،  محبت کا معنی: اللہ تعالی کی طرف تقرب کا ارادہ کرنا اور اس کی تعظیم کرنا، اخلاص :ہر کام اللہ تعالی کے لے خاص کرنا ،خشوع :دل کا علام الغیوب ذات کے سامنے جھکنا،تواضع:حق کے سامنے تابع دار ہو نا اور حکم میں اعتراض نہ کرنا ،عظمت :بڑائی اور بزرگی ۔

لہذا مومن کی شان  یہ  ہے  کہ ان چیزوں کو سا منے  رکھتے ہو  ئے اللہ تعالی کی عبادت  اور فرماں بر دار ی کرے اور انہیں کی طرف  اشارہ کر تے ہوئے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

(یہ لو گ کہ جن کو مشرکین پکاررہے ہیں وہ خود  اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈ ھو نڈ رہے  ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے اور وہ اس کی رحمت  کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں(اور) واقعی آپ کے رب کا عذاب ہے بھی ڈر نے کے قابل ) بیان   القرآن ۔

خلا صہ یہ ہے کہ نماز اللہ تعالی کی محبت میں پڑھنی چاہے اور  نہ پڑھنے کی صورت میں عذاب  کا ڈربھی ہو نا چاہیے اس لئے ایمان امید اور خوف کے در میان ہو تا ہے ،اور اللہ تعالی سے محبت کا  حق یہ ہے کہ عبادات بجا لائے اور عظمت کا حق یہ ہے کہ اس کی نافر مائی نہ کرے ۔

تفسیر القرآن الکریم لابن   القیم(الجوزیہ ) میں ہے :

"ومن عبده بالحب والخوف والرجاء فهو مؤمن. وقد جمع تعالى هذه المقامات الثلاث بقوله: 17: 57 ‌أُولئِكَ ‌الَّذِينَ ‌يَدْعُونَ ‌يَبْتَغُونَ إِلى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ، وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ فابتغاء الوسيلة هو محبته الداعية إلى التقرب إليه. ثم ذكر بعدها الرجاء والخوف. فهذه طريق عباده وأوليائه".

(سورة الأعراف (7) : آية 205،ص،260: ط:دار ومكتبة الهلال )

مدارج السالکین میں ہے:

"قال تعالى: {‌أُولَئِكَ ‌الَّذِينَ ‌يَدْعُونَ ‌يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ} [الإسراء: 57]، فابتغاء الوسيلة إليه: طلب القرب منه بالعبودية والمحبَّة، فذكر مقامات الإيمان الثلاثة التي عليها بناؤه: الحبَّ، والخوف، والرَّجاء. وقال تعالى: {مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ} [العنكبوت: 5]. وقال: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: 110]. وفي «صحيح مسلم» عن جابرٍ - رضي الله عنه - قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قبل موته بثلاثٍ: «لايموتَنَّ أحدكم إلَّا وهو يحسن الظنَّ بربِّه."

‌‌(منزلة البصيرة،حقيقة الرجاء،فصل منزلة الرجاء،٣٦/٢،ط:دار الكتاب العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100766

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں