بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ ھو کا ورد کرنے کا حکم


سوال

اللہ ھو کا ورد کرنا جائز ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ قرآن وحدیث میں ذکر کرنے کی  ترغیب اور بہت سارے فضائل  آئے ہیں، خصوصا"لاالہ الااللہ "کا ذکر کرنے کو  رسول اللہ ﷺ نے افضل ترین ذکر قرار دیا ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں   چاہے   صرف لفظ" اللہ" اسم ذات کا ورد کرنا  ہو،یا "ھو"ضمیر  کے ساتھ ملاکر"اللہ ھو " کا   ورد  کرنا ہو،بہر صورت جائز ہے،اور اس  طرح کے ذکر سے مقصودذہن وحافظہ میں اس کا مستحضراور راسخ کرنا  ہوتاہے۔

بوادر النوادر میں ہے:

"جس طرح قرآن پڑھنے میں کبھی  توتلاوت مقصود ہوتی ہے اور اس وقت اس کے طریق کا منقول ہونا شرط ہے،اور غیر منقول کا اختیار کرنا بدعت ،اور کبھی محض ذہن و حافظہ میں اس کا مستحضر کرنا اور راسخ کرنا مقصود ہوتا ہے،اس میں اتباع منقول کا کرنا لازم نہیں ،مثلا ایک شخص ایک ایک مفرد کا تکرار کرکے یاد کرتا ہے ،ایک شخص ایک ایک جملہ کا ،ایک شخص ایک ایک آیت کا ،یہ سب جائز ہے، اس کاوش کی ضرورت نہیں کہ اس میں  سلف کا کیا طریق تھا ،اسی طرح عبارت ذکر سے کبھی تو خود ذکر مقصود بالذات ہوتا ہے ،اس ہیئت کا منقول ہونا شرط ہے،اور کبھی ذہن میں کسی خاص مطلوب کا استحضار اور رسوخ مقصود ہوتا ہے،جس سے اس عبارت کا تعلق ہو  ،اس میں  اس ہیئت کا منقول ہونا شرط نہیں،پس الا اللہ اور اسم جلالہ کے تکرار معتاد سے مقصود بالذات ذکر نہیں ،بلکہ ایک خاص مطلوب  کا استحضار مقصود  ہے،اور وہ خاص مطلوب فنائے علمی غیر اللہ اور توجہ الی اللہ   میں تدریجا ترقی کرنا ہے۔"

(پچاسویں حکمۃ :230،ط: مکتبہ ابن عباس تخت بھائی مردان)

مسلم شریف میں ہے:

"عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض: الله الله."

(كتاب الايمان،‌‌باب ذهاب الإيمان آخر الزمان،91/1،ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)

تحفۃ الاحوذی میں ہے:

"أفضل الذكر لا إله إلا الله لأنها كلمة التوحيد والتوحيد لا يماثله شيء وهي الفارقة بين الكفر والإيمان ولأنها أجمع للقلب مع الله وأنفى للغير وأشد تزكية للنفس وتصفية للباطن وتنقية للخاطر من خبث النفس وأطرد للشيطان."

(کتاب الدعوات،باب :ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ،رقم الحدیث:3383،ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن جابر رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «أفضل الذكر: لا إله إلا الله» ) : وفي رواية: هي أفضل الحسنات. رواه أحمد، لأنه لا يصح الإيمان إلا به. قال الطيبي: ذكر بعض المحققين أنه إنما جعل التهليل أفضل الذكر، لأن للتهليل تأثيرا في تطهير الباطن عن الأوصاف الذميمة التي هي معبودات في باطن الذاكر. قال تعالى: {أفرأيت من اتخذ إلهه هواه} [الجاثية: 23] فيفيد نفي عموم الآلهة بقوله: لا إله، ويثبت الوحدة بقوله: إلا الله، ويعود الذكر عن ظاهر لسانه إلى باطن قلبه، فيتمكن فيه ويستولي على جوارحه، وجد حلاوة هذا من ذاق."

(كتاب أسماء الله تعالى، ثواب التسبيح والتحميد والتهليل والتكبير، 4/ 1598، دار الفكربيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508101095

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں