بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

الائنرز تھیراپی (Aligner therapy) اور اس کی کمائی کا حکم


سوال

 جو ڈاکٹرالائنرز تھیراپی (Aligner therapy)  کرتے ہیں ،کیا ان کی کمائی جائز ہے ؟ اور مذکورہ کام کا کیا حکم ہے؟

جواب

ہماری معلومات کے مطابق  کلئیرالائنرتھیراپی پلاسٹک کابناہوا ایک نظر نہ آنےوالاخول ہوتاہےجو   ہر شخص کے دانتوں کے سائز کے مطابق  تیار کرکے فِکس کیا جاتا ہے  اور واپس اتر بھی جاتا ہے، اور دانتوں پر مختلف مقاصد کے تحت چڑھایا جاتا ہے ،مثلاً:ٹیڑھے دانتوں کوسیدھاکرنے  کے لیے، اسی طرح دانتوں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے اور مسکراہٹ کو خوب صورت اور خوشنما بنانےکے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر الائنر کو 2 ہفتوں تک پہننا  ہوتاہے، اوریہ اس وقت تک کیا جاتا ہے جب تک کہ تمام الائنرز کو ان کےطریقے کے مطابق استعمال نہیں کرلیا جاتا اور دانت ڈیزائن کی گئی پوزیشن پر  صحیح طرح  سےمنتقل نہیں ہو جاتے،نیز  الائنرلگانےکےبعد بوقت ضرورت  اسے نکالا بھی جاسکتاہے۔

مذکورہ تفصیل کے بعد  صورتِ مسئولہ میں ڈاکٹرحضرات کا الائنر لگانا  اور اس کی کمائی استعمال کرنا اس وقت درست ہے کہ جب  کسی مریض کے دانت  اتنے ٹیڑھے ہوں یا ان میں اتنا خلا ہو  جو باعثِ عیب ہو ، اور اگر کسی شخص کے دانت اتنے ٹیڑھے نہ ہوں اور ان میں اتنا فاصلہ نہ ہو جو باعثِ عیب ہو تو پھر صرف خوبصورتی کی غرض سے    یا مسکراہٹ میں  خوشنمائی اورخوبصورتی پیدا کرنے کے لیے الائنر لگانا اور اس سے حاصل شدہ کمائی کا استعمال کرنا    جائز نہیں ،کیوں کہ اس صورت میں یہ  اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے کے مترادف ہے جو کسی صورت جائز نہیں۔

نیز  الائنر تھیراپی لگانے کی صورت میں واجب  غسل  کے لیے کَوَر کو نکال کر  کلی کرنا لازم ہوگا  اور وضو میں بھی  سنت  پر عمل کرنے کے لیے الائنر کیپ کو  اتارا جاۓگا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال النووي: فيه إشارة إلى أن الحرام هو المفعول ‌لطلب ‌الحسن، أما لو احتاجت إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلا بأس به."

(کتاب اللباس،باب الترجل،الفصل الاول،295/8،ط:إمدادية)

وفیہ ایضاً:

"وعن أبي ريحانة رضي الله عنه قال: " «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر: عن الوشر، والوشم... إلخ

(قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر) : أي خصال (عن الوشر)... وهو على ما في النهاية تحديد الأسنان وترقيق أطرافها، تفعله المرأة الكبيرة تتشبه بالشواب.قال بعضهم وإنما نهى عنه لما فيه من التغرير وتغيير ‌خلق ‌الله تعالى)."

(کتاب اللباس، الفصل الثانی،259/8،ط:امدادیة)

بذل المجہود میں ہے:

"فإن الظاهر أن المراد بتغيير خلق الله أن ما خلق الله سبحانه وتعالى حيوانا على صورته المعتادة لا يغير فيه، لا أن ما خلق على خلاف العادة مثلا كاللحية للنساء أو العضو الزائد فليس تغييره تغييرا ‌لخلق ‌الله."

 (أول کتاب الترجل،باب في صلة الشعر،197/12،ط:دار البشائر الإسلامیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح."

( كتاب الطهارة،باب فرض الغسل،154/1، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو انكسر ظفره فجعل عليه دواء أو علكا فإن كان يضره نزعه مسح عليه وإن ضره المسح تركه."

            ( كتاب الطهارة،الباب الثانی فی نواقض المسح، 35/1، ط:رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں