بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

علی مصطفی نام رکھنا


سوال

بچے کا نام علی مصطفیٰ رکھنا ٹھیک ہے؟

جواب

 ’’علی‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کا نام مبارک ہے۔اور"مصطفیٰ" ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام ہے، جس کا معنی ہے: مختار، چنا ہوا، خاص کیا ہوا، بزرگ و برتر۔ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنا اور خصوصًا سردارِ انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا نہ صرف بہتر، بلکہ باعث برکت بھی ہے۔ لہذا "علی مصطفی" نام رکھنا درست ہے، صحیح عقیدےکے ساتھ کہ "علی" الگ ہےاور مصطفیٰ الگ ہے۔

عيون الأثر في فنون المغازي والشمائل والسير میں ہے:

"وقد ذكر في أسمائه: الرسول، والمرسل، النبي الأمي، الشهيد، المصدق، النور، المعلم، البشير، المبشر، النذير، المنذر، المبين، الأمين، العبد، الداعي، السراج، المنير، الإمام، الذكر، المذكر، الهادي، المهاجر، العامل، المبارك، الرحمة، الآمر، الناهي، الطيب، الكريم، المحلل، المحرم، الواضع، الرافع، المجير، خاتم النبيين، ثاني اثنين، منصور، أذن خير، مصطفى، مأمون، قاسم، نقيب، المزمل، المدثر، العلي، الحكيم، المؤمن، الرؤوف، الرحيم، الصاحب، الشفيع، المشفع، المتوكل، نبي التوبة، نبي الرحمة، نبي الملحمة صلى الله عليه وسلم."

(ذکر اسمائہ علیہ السلام ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۸۲، دار القلم)

أسد الغابة  میں ہے:

"عليّ بْن أَبِي طَالِب بْن عَبْد المطلب بْن هاشم بْن عَبْد مناف بْن قصي بْن كلاب بْن مرة بْن كعب بْن لؤي الْقُرَشِيّ الهاشمي ابْن عم رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ واسم أَبِي طَالِب عَبْد مناف، وقيل: اسمه كنيته، واسم هاشم: عَمْرو، وأم عليّ فاطمة بِنْت أسد بْن هاشم، وكنيته: أَبُو الْحَسَن أخو رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وصهره عَلَى ابنته فاطمة سيدة نساء العالمين، وَأَبُو السبطين، وهو أول هاشمي والد بين هاشميين، وأول خليفة من بني هاشم، وكان عليّ أصغر من جَعْفَر، وعقيل، وطالب."

(حرف العین، باب العین و اللام ج نمبر ۴ ص نمبر ۸۷،دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں