بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

’’علی حیدر‘‘ نام رکھنا


سوال

علی حیدر  نام  رکھنا  کیسا ہے؟

جواب

 ’’علی‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) کا  نام مبارک ہے اور  ’’حیدر‘‘  کے معنی شیر کے ہیں، یہ بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناموں میں سے ہے۔ لہٰذا ’’علی حیدر‘‘ نام رکھنا جائز ، بلکہ بہت بابرکت ہے۔

تاج العروس (39/ 87)

(و) العلاية: (كل موضع مرتفع) رئي فيه معنى {العلو؛ (كالعلي كظبي} والعلي)، كغني: الصلب (الشديد القوي، وبه سمي) الرجل {عليا، فهو من الشدة والقوة، ويكون أيضا من الرفعة والشرف، وأفضل من سمي به أمير المؤمنين} علي بن أبي طالب، رضي الله تعالى عنه.

الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (2 / 625):

" والحيدرة: الأسد. وقال علي رضى الله عنه: أنا الذي سمتني أمي حيدرة  * لأن أمه فاطمة بنت أسد لما ولدته وأبو طالب غائب سمته أسداً باسم أبيها، فلما قدم أبو طالب كره هذا الاسم فسماه علياً". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں