بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

الفاظ کفر کہنے پر تجدیدِ نکاح کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص منہ سے الفاظِ کفر دو یاتین مرتبہ نکالےتو کیاتجدیدِ نکاح کرے؟

جواب

اگر کسی شخص کی زبان سے   ایسے الفاظ نکل جائیں جن میں کفر کا اندیشہ ہو اور کہنے والے کو ان الفاظ سے کفر کا خطرہ ہو یا ایسا عمل کرلیا جس سے کفر یا شرک لازم ہونے کا اندیشہ ہو خواہ ایک دفعہ ہی کیوں نہ ہو  تو ایسی صورتِ  حال  میں صاحبِ واقعہ کو چاہیے کہ کسی مستند عالم اور مفتی سے رجوع کرکے ان الفاظ یا اس عمل کا حکم دریافت کرلے،تاکہ اگر خدانخواستہ کفر لازم آرہا ہو تو فوراً اس کا ازالہ ہو اور  صحیح طریقے سے تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی کرلے ۔

فتاوی شامی ميں ہے:

"(قوله لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ظاهره أنه لا يفتى به من حيث استحقاقه للقتل ولا من حيث الحكم ببينونة زوجته. وقد يقال: المراد الأول فقط، لأن تأويل كلامه للتباعد عن قتل المسلم بأن يكون قصد ذلك التأويل، وهذا لا ينافي معاملته بظاهر كلامه فيما هو حق العبد وهو طلاق الزوجة وملكها لنفسها، بدليل ما صرحوا به من أنهم إذا أراد أن يتكلم بكلمة مباحة فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بلا قصد لا يصدقه القاضي وإن كان لا يكفر فيما بينه وبين ربه تعالى، فتأمل ذلك وحرره نقلا فإني لم أر التصريح به، نعم سيذكر الشارح أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط."

(كتاب الجهاد، باب المرتد،4 /229، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404102031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں