بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

الیکٹرک تسبیح پر ذکر واذکار کرنے کا حکم


سوال

الیکٹرک تسبیح سے ذکر کرنا کیسے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ذکر و اذکار کا شمار اپنی انگلیوں پر کرنا اولی ہے، البتہ شمار کے لیے دانوں یا مروجہ الیکٹرک تسبیح استعمال کرنابھی جائز ہے،خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض سے کنکریوں پر شمار کرتے تھے۔

"آپ کے مسائل اور ان کا حل" لمولانا محمد یوسف لدھیانویؒ میں ہے:

سوال: آپ نے مؤرخہ 24/ فروری 1989 کے روزنامہ جنگ میں " اسلامی صفحہ" پر نجمہ رفیق صاحبہ کراچی کے جواب میں چلتے پھرتے تسبیح پڑھنے کو جائز، بلکہ بہت اچھی بات لکھا ہے، یہاں پر میرا مقصود آپ کے علم میں کسی قسم کا شک و شبہ کرنا نہیں۔ بلاشبہ آپ کا علم وسیع ہے، مگر جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے وہ یہ کہ تسبیح کے دانے پڑھنا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں داخل نہ تھا، اور نہ ہی اسے ذکر اللہ کہا جاسکتا ہے، ذکر اللہ کے عملی معنی اس سے بالکل مختلف ہیں، یہ ایک شرعی بدعت ہے جو آج کل ہماری زندگی میں فیشن کی شکل میں داخل ہوگئی ہے، اُمید ہے آپ اس مسئلے پر مزید کچھ روشنی ڈالیں گے۔

جواب: تسبیح بذاتِ خود مقصود نہیں، بلکہ ذکر کے شمار کرنے کا ذریعہ ہے، بہت سی احادیث میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ فلاں ذکر اور فلاں کلمہ کو سو مرتبہ پڑھا جائے تو یہ اجر ملے گا، حدیث کے طلبہ سے یہ احادیث مخفی نہیں ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس تعداد کو گننے کے لیے  کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور اختیار کیا جائے گا، خواہ اُنگلیوں سے گنا جائے یا کنکریوں سے، یا دانوں سے۔ اور جو ذریعہ بھی اختیار کیا جائے وہ بہرحال اس شرعی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوگا۔ اور جو چیز کسی مطلوبِ شرعی کا ذریعہ ہو وہ بدعت نہیں کہلاتا، بلکہ فرض کے لیے ایسے ذریعہ کا اختیار کرنا فرض، اور واجب کے لیے ایسے ذریعہ کا اختیار کرنا واجب ہے، اسی طرح مستحب کے لیے ایسے ذریعہ کا اختیار کرنا مستحب ہوگا۔ آپ جانتے ہیں کہ حج پر جانے کے لیے بحری، بری اور فضائی تینوں راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں، لیکن اگر کسی زمانے میں ان میں سے دو راستے مسدود ہوجائیں، صرف ایک ہی کھلا ہو تو اسی کا اختیار کرنا فرض ہوگا، اور اگر تینوں راستے کھلے ہوں تو ان میں کسی ایک کو لا علی التعیین اختیار کرنا فرض ہوگا۔ اسی طرح جب تسبیحات و اذکار کا گننا عندالشرع مطلوب ہے اور اس کے حصول کا ایک ذریعہ تسبیح بھی ہے، تو اس کو بدعت نہیں کہیں گے، بلکہ دُوسرے ذرائع میں سے ایک ذریعہ کہلائے گا، اور چوں کہ تمام ذرائع میں زیادہ آسان ہے، اس لیے اس کو ترجیح ہوگی۔

2:… متعدّد احادیث سے ثابت ہے کہ کنکریوں اور دانوں پر گننا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا اور نکیر نہیں فرمائی، چنانچہ:

الف:  سنن ابی داوٴد (ج:1،  ص:310، باب التسبیح بالحصیٰ) اور مستدرک حاکم (ج:1، ص:485) میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ:

”أنه دخل مع النبي صلی الله علیه وسلم علی امرأة وبین یدیها نوی أو حصى تسبح به فقال: أخبرك بما هو أیسر علیك من هذا وأفضل ․․․ الحدیث.“ (سکت علیه الحاکم، وقال الذهبي: صحیح)

ترجمہ:”وہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خاتون کے پاس گئے، جس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھی، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے ایسے چیز بتاوٴں جو اس سے زیادہ آسان اور افضل ہے؟ ․․․․․ الخ۔“

ب:ترمذی اور مستدرک حاکم (ج:1، ص:547) پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

”قالت: دخل علي رسول الله صلی الله علیه وسلم وبین یدي أربعة آلاف نواة أسبح بهن، فقال: یا بنت حيي! ما هذا؟ قلت: أسبح بهن! قال: قد سبحت منذ قمت على رأسك أکثر من هذا، قلت: علمني یا رسول الله! قال: قولي: سبحان الله عدد ما خلق من شیٴ...“ (قال الحاکم: هذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاه. وقال الذهبي: صحیح)

ترجمہ:”آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے آگے چار ہزار گٹھلیاں تھیں، جن پر میں تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں ان پر تسبیح پڑھ رہی ہوں! فرمایا: میں جب سے تیرے پاس کھڑا ہوا ہوں، میں نے اس سے زیادہ تسبیح پڑھ لی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی سکھائیے۔ فرمایا: یوں کہا کر: سبحان الله عدد ما خلق من شیٴ.“

(اوراد وظائف، تسبیح پر ذکر کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب، ج:4، ص:260، ط:مکتبہ لدھیانوی)

عون المعبود شرح سنن ابی داؤد میں ہے:

"هذا أصل صحيح لتجويز السبحة بتقريره صلى الله عليه وسلم فإنه في معناها إذ لا فرق بين المنظومة والمنثورة فيما بعد به ولا يعتد بقول من عدها بدعة".

(باب التسبيح بالحصى، ج:4، ص:257، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں