بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

الکحل والی خوشبو کےکاروبار کاحکم


سوال

میراعطر اور پرفیوم کا کاروبار ہےاور پرفیوم میں الکحل لازمی ہے، جس کی مقدار کم یا زیادہ کی جاتی ہے ۔

سوال یہ ہے پرفیوم کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور کیا الکحل سے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو الکحل انگور، منقی اورکھجور سے کشید کرکے تیار کیا گیا ہو وہ مطلقاً نجس و ناپاک ہے،اس کی ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار دوسری چیز کو ناپاک کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے، البتہ مذکورہ اشیاء کے علاوہ دیگر سبزیوں اور پھلوں سے کشیدہ الکحل ناپاک نہیں ہوتا؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایسا پرفیوم جس میں موجود الکحل ان اشیاء (انگور یا کھجور) میں سے کسی ایک سے کشیدہ ہو تو اس پرفیوم و عطر کا استعمال جائزنہیں ہے، البتہ جن پر فیومزمیں موجود الکحل ان تین اشیاء میں سے کسی کا نہ ہو، بلکہ ان کے علاوہ کسی اورچیز سے حاصل کردہ ہو تو ایسا پرفیوم و عطر استعمال کرسکتے ہیں، نماز بھی ادا کرسکتے ہیں، آج کل عام طور پرپرفیومز میں استعمال ہونےوالا الکحل انگور اور کھجور کے علاوہ اورچیزوں جیسے سبزیوں،گنے اور پٹرول وغیرہ سے کیاگیاہوتا ہے، اس لیے ایسی خوشبو اور پرفیوم کا استعمال جائز ہے جس میں الکحل ملا ہوا ہو۔

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي.

و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخري، ولا يحكم بنجاستها أخذا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لا تتخذ من العنب او التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."

(كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406102092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں