بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

الارم اور فون میں بجنے والی گھنٹی کا حکم اور حدیث کی تشریح


سوال

گزشتہ دنوں نظر سے حدیث مبارکہ ﷺ گزری، "حضرت محمد رسول الله خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔"( مسند احمد ۸۰۷۶) براہ کرم اس حدیث مبارکہ کا مطلب سمجھا دیں کہ یہ کون سی گھنٹی ہے؟ کیا گھر کے دروازے پر لگی گھنٹی یا گُفتہ (فون)  پر بجنے والی گھنٹی یا کوئی اور،  براہ کرم وضاحت فرما دیں۔

جواب

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ " جرس ( یعنی گھنگرو اور گھنٹی) مزامیر شیطان ( یعنی شیطانی باجہ) ہے۔ "

"جرس"  ( گھنٹال) ان گھنٹیوں اور گھنگرو وں کو کہتے ہیں جو جانوروں کے گلے میں باندھی جاتی ہے، " مزامیر " دراصل " مزمار " کی جمع ہے اور مزمار " بانسری " کو کہتے ہیں جو بجائی جاتی ہے،  مزامیر بلفظ جمع اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس کی آواز میں اس طرح کا تسلسل ہوتا ہے کہ وہ منقطع نہیں ہوتی گویا اس آواز کی ہر لے اور ہر سلسلہ ایک مزمار ہے،  نیز " جرس " کو مزامیر شیطان اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ وہ انسان کو ذکر واستغراق اور مشغولیت عبادت سے باز رکھتا ہے،اور  اس "جرس" کے ممنوع ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ ناقوس کی مشابہت رکھتا ہے یا یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی آواز  سے مقصود ساز کی کیفیت ہوتی ہے، جس کو آپﷺ نے منع فرمایا ، اور اسلام میں اس کا سننا بھی حرام ہے، تاہم جن گھنٹیوں سے مقصود ساز کی کیفیت حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کے بجنے سے کوئی منفعت حاصل ہوتی ہو، جیسے  کہ الارم (alarm)  کے بجنے سے مخصوص وقت پر جگانا مقصود ہوتا ہے، اسی طرح دروازوں پر گھنٹیاں  (bells)  اجازت لینے کے لیے بجتی ہے، اسی طرح فون پر بجنے والی گھنٹی (ringtone) سے مقصود فون پر خبردار کرنا ہوتا ہے، تو  یہ   ممانعت کے زمرے میں  نہیں آتی ہے،  البتہ  موبائل پر  سادہ گھنٹی  لگائی جائے،  گانے یا موسیقی   پر مشتمل گھنٹی لگانا  شرعًا درست نہیں ہوگا۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

" و عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «لايحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس» ". رواه مسلم.

(ولا جرس) : بزيادة لا للتأكيد. قال الطيبي: جاز عنه على قوله فيها كلب، وإن كان مثبتا ; لأنه في سياق النفي. في المغرب: الجرسبفتحتين ما يعلق بعنق الدابة وغيره فيصوب. قال النووي: وسبب الحكمة في عدم مصاحبة الملائكة مع الجرس أنه شبيه بالنواقيس، أو ; لأنه من المعاليق المنهي عنها لكراهة صوتها، ويؤيده قوله ; أي: الآتي مزامير الشيطان، وهو مذهبنا، ومذهب مالك وهي كراهة تنزيه، وقال جماعة من متقدمي علماء الشام: يكره الجرس الكبير دون الصغير اهـ.

وقال بعض العلماء: جرس الدواب منهي عنه إذا اتخذ للهو، وأما إذا كان فيه منفعة فلا بأس. وفي شرح السنة: روي أن جارية دخلت على عائشة، وفي رجلها جلاجل فقالت عائشة: أخرجوا عني مفرقة الملائكة، وروي أن عمر رضي الله عنه قطع أجراسا في رجل الزبير، وقال: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «إن مع كل جرس شيطانا» . (رواه مسلم) : وكذا أحمد، وأبو داود والترمذي."

(كتاب الجهاد، باب آداب السفر، ج:6، ص:2511، ط:دارالفكر) 

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209200769

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں