بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روایت الجہاد ماض الی یوم القیامة کی تحقیق


سوال

”الجھادُ ماضٍ الی یومِ القیامة“، یہ حدیث ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو ضعیف تو نہیں ہے؟

جواب

مذکورہ الفاظ امام طبرانی رحمہ اللہ  (المتوفى: 360ھ) کی  ’’المعجم الأوسط ‘‘میں ایک   روایت  کےضمن میں  وارد ہوئے ہيں، یعنی حدیث ہے البتہ ضعیف ہے، اور فقہاء کرام نے اس حدیث کو لیا ہے ،  روایت  بمع سندملاحظہ فرمائیں: 

"حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: نَا سَعْدَانُ بْنُ زَكَرِيَّاالدَّوْرَقِيُّ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى ثَلَاثَةٍ: أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا تُكَفِّرُوهُمْ بِذَنْبٍ، وَلَا تَشْهَدُوا عَلَيْهِمْ بِشِرْكٍ، وَمَعْرِفَةُ الْمَقَادِيرِ خَيْرُهَا وَشَرُّهَا مِنَ اللَّهِ،وَالْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مُذْ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى آخِرِ عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، لَا يَنْقُضُ ذَلِكَ جَوْرُ جَائِرٍ، وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ." 

(المعجم الأوسط، (5/ 95) برقم (4775)، ط/ دار الحرمين - القاهرة)

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد  امام طبرانی رحمہ اللہ سند پر کلام کرتے ہوئے  لکھتے ہیں : 

"لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ. "

’’يعني اس روايت كو ثوری ، اوزاعی ، اور ابن جریج رحمہم اللہ سے صرف اسماعیل بن یحیي تیمی ہی نےروایت  کیا ہے ۔‘‘

(المعجم الأوسط، (5/ 95) برقم (4775)، ط/ دار الحرمين - القاهرة)

نیز اسی روایت کو أبو نُعیم اصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى: 430ھ) نے بھی اپنی سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں : 

"حدثنا علي بن أحمد بن أبي غسان، قال: ثنا عبد الرحمن بن خلاد، قال: ثنا سعدان بن زكريا الدورقي، قال: ثنا إسماعيل بن يحيى، عن سفيان بن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي، والأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن سعيد بن المسيب معا، عن علي، وابن جريج، عن أبي الزبير، عن جابر، رضي الله تعالى عنه، قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بني الإسلام على ثلاث: أهل لا إله إلا الله لا تكفروهم بذنب، ولا تشهدوا عليهم بشرك، ومعرفة المقادير خيرها وشرها من الله، والجهاد ماض إلى يوم القيامة، لا ينقض ذلك جور جائر ولا عدل عادل."

(حلية الأولياء، (3/ 73)، ط/  دار الكتاب العربي- بيروت)

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد أبو نُعیم اصبہانی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں: 

"هذا حديث غريب من حديث الثوري والأوزاعي وابن جريج، تفرّد به إسماعيل بن يحيى، وهو التميمي، وعنه سعدان بن زكريا."

’’یعنی یہ حدیث ثوری ، اوزاعی اور ابن جریج رحمہم اللہ کی احادیث میں سے غریب ہے، اس کے نقل کرنے والے اسماعیل بن یحیي  تمیمی متفرد  ہیں ، اور ان سے نقل کرنے والے سعدان بن زکریا  ہیں۔‘‘ 

(حلية الأولياء، (3/ 73)، ط/  دار الكتاب العربي- بيروت)

مزید یہ کہ  اس  روایت کی ہم معنی کئی  روایات موجود ہیں ،  جن سے اس مضمون کاثبوت ملتا ہےکہ جہاد قیامت تک جاری رہےگا، چنانچہ ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے:’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں میں سے ایک جماعت اس(دین)کے خلاف  قیامت تک لڑتی رہے گی۔

’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے:

عن جابرِ بن سمُرةَ-رضي الله عنه- عن النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم- أنّه قال: «لَن يبرحَ هَذا الدينُ قائماً، يُقاتلُ عليه عِصابةٌ مِنَ المسلمين حتَّى تقومَ السَّاعةُ».

(كتاب الإمارة، باب  قوله لا تزال طائفة من أمتي ... إلخ، (3/ 1524)، برقم (1922)، ط/ دار إحياء التراث العربي- بيروت)

اسی طرح ’’سنن ابی داود‘‘ میں  حضرت  انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تین باتیں ایمان کی بنیاد ہیں:

۱۔جو شخص  لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اُس( کے ساتھ جنگ ومخاصمت) سے رک جاؤ ، اب نہ تو ہم کسی گناہ کی وجہ سے اُسے کا فر  قرار دیں گےاور نہ کسی عمل کی وجہ سے اُسے اسلام سے خارج کریں گے۔

۲۔اور جہاد  اُس وقت سے ہمیشہ کے لیے جاری  رہے گا جب سے اللہ تعالی نے مجھے رسول بناکر بھیجا ہے،یہاں تک کہ میرا آخری امتی دجال کے ساتھ  جنگ کرےگا،نہ تو کسی  ظالم کا ظلم اُسے باطل کرسکےگااو رنہ کسی عادل  کا عدل۔

۳۔تقدیر پر ایمان لانا۔

تاہم ’’سنن ابی داود‘‘ کی مذکورہ روایت کی سند میں ایک راوی ’’یزید بن ابی نشبۃ‘‘ پر کلام ہے، چنانچہ حافظ عبد العظیم منذری  رحمہ اللہ ’’مختصر سنن ابی داود‘‘ میں لکھتے ہیں:

(مذکورہ روایت کی سند میں) حضرت انس رضی  اللہ عنہ سے روایت کرنے والا شخص یزید بن ابی نشبۃ، مجہول کے معنی میں ہے ۔

اور حافظ جمال الدین زیلعی رحمہ اللہ ’’نصب الرایۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

(حافظ) منذری (رحمہ اللہ) اپنی ’’مختصر‘‘   میں لکھتے ہیں: یزید بن ابی نشبۃ مجہول کے معنی میں ہے،اور(حافظ) عبد الحق(اشبیلی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں:یزید بن ابی نشبۃ، بنی سلیم قبیلہ کا ایک شخص ہے،اُس سے صرف جعفر بن برقان نے روایت کی ہے۔

’’سنن ابی داود‘‘ میں ہے:

" حدَّثنا سعيدُ بنُ منصورٍ، حدَّثنا أبو مُعاوية، حدَّثنا جَعفرُ بنُ بُرقان، عن يزيدَ بنِ أبي نُشبة، عن أنسِ بنِ مالكٍ-رضي اللهُ عنه- قال: قال رسولُ اللهِ -صلّى الله عليه وسلّم-: ثلاثٌ من أصل الإِيمان: الكفُّ عمَّن قال: لا إلهَ إلاّ الله، ولا نُكفِّرُه بذنبٍ، ولا نُخرِجُه من الإِسلام بعملٍ، والجهادُ مَاضٍ مُنذ بعثَني اللهُ إلى أن يُقاتِل آخرُ أمَّتي الدَّجالَ، لا يُبطِله جَورُ جائرٍ ولا عَدلُ عادلٍ، والإيمانُ بِالأقدارِ."

(كتاب الجهاد، باب في الغزو مع أئمة الجور، (3/ 18)، برقم (2532)، ط/ المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

’’مختصر سنن ابی داود للمنذری‘‘ میں ہے:

" وَالرَّاوي عن أنسٍ يزيدُ بنُ أبي نُشبة، وهو في مَعنى المجهولِ. "

(كتاب الجهاد، باب في الغزو مع أئمة الجور، (2/ 155)، برقم (2532)، ط/ مكتبة المعارف للنشر والتوزيع - الرياض)

’’ نصب الرایة لأحادیث الهدایة‘‘ میں ہے:

"قال المنُذِري في "مُختصره": يزيدُ بنُ أبي نُشبة في معنى المجهول، وقال عبدُ الحق: يزيدُ بنُ أبي نُشبة هو رجلٌ مِن بَني سُليمٍ، لم يروِ عنه إِلاّ جَعفرُ بنُ بُرقان، انتهى".

(كتاب السير، الحديث الأول، (3/ 377)، ط/ مؤسسة الريان للطباعة والنشر- بيروت)

خلاصہ  کلام یہ ہےکہ ”الجھادُ ماضٍ الی یومِ القیامة“حدیث ہے ، البتہ ضعیف ہے، ضعیف حدیث بھی حدیث ہی ہوتی ہے، جب صحیح حدیث نہیں ملتی لیکن ضعیف حدیث ملتی ہے، اور اس کا ضعف قابل بر داشت ہوتا ہے ، تو اس پر عمل کیا جاتا ہے، کیوں کہ حدیث تو حدیث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے، وہ ضعیف نہیں ہوتا، البتہ سند کے راوی ضعیف ہوتے ہیں، اس لیے بخاری اور مسلم رحمہما اللہ کے علاوہ باقی تمام محدثین کرام نے  ضعیف حدیث کو صحیح حدیث کے ساتھ جمع کیا ہے، تا کہ صحیح حديث نہ ملے تو ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکے، البتہ موضوع روایت حدیث نہیں ہوتی، اس لیے ضعیف حدیث جس کا ضعف قابلِ برادشت ہے، اس کو بیان کرنا اور ا س پر عمل کرنا جائز ہے، البتہ موضوع حدیث  کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا  کلام ہی نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144404102160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں