بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

الدین النصیحہ روایت کی تشریح


سوال

فضائل اعمال کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

دین سراسر خیر خواہی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: کس کےلیے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کےلیے اور اللہ  کے رسول کے لیے  اور مقتداؤں کےلیے اور عام مسلمانوں کےلیے ۔اس حدیث کی تشریح فرمادیں۔ 

جواب

مذكورہ حدیث "صحیح مسلم " میں حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے موجود ہے:

عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ؛ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ ‌النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قال «لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعاماهم»

(صحيح مسلم، الإمام مسلم، دار إحياء التراث العربي - بيروت، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، كتاب الإيمان، باب بيان أن الدين النصيحة، رقم الحديث: ٩٥، ١/٧)

تشريح:  یہ حدیث ایک انتہائی جامع حدیث ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جملہ "الدین النصیحة" جوامع الکلم میں سے ہے،  جس کے الفاظ مختصر ہیں مگر معانی کثیر  ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ دین کا  سب سے بڑا ستون خیر خواہی ہے، یعنی ہر ایک کے ساتھ اخلاص کے ساتھ خیر خواہی  اور اچھا سلوک کرنا۔شارح بخاری  خطابی لفظ نصیحہ کی تشریح کرتے  ہو ئے فرماتے ہیں:

النصيحة: كلمة جامعة معناها: حيازة الحظ للمنصوح له. قال: ويقال: هو من وجيز الأسماء ومختصر الكلام، وليس في كلام العرب كلمة مفردة تُستوفى بها العبارة عن المعنى هذه الكلمة.

(أعلام الحديث شرح صحيح البخاري، أبو سليمان الخطابي، مركز البحوث العلمية وإحياء التراث الإسلامي، الأولى، ١٤٠٩هـ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم الدين النصيحة لله ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم، ١/١٨٩)

ترجمه: نصیحت ایک جامع کلمہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے خلوص کے ساتھ کسی کو ایسی بات کہی جائے گویا کہ اس سے اس کے بخت جاگ اٹھے، کہا جاتا ہے کہ یہ مختصر ترین اسماء میں سے ہے، کلام عرب میں اس کلمہ کی ادائیگی کے لیے اس کا مماثل کوئی لفظ نہیں۔

اس نصیحہ"اللہ کے لیے"   اس طرح ہے کہ اللہ کے متعلق صحیح عقیدہ رکھا جائے، جن صفات کے مستحق ہیں وہ ساری کی ساری صفات اللہ تعالی کے ساتھ خاص مان لی جائیں،  اس سے محبت رکھی جائے، عبادات صرف اللہ تعالی کے لیے کرے،  اس کی کتاب پر عمل کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے ، اور اس کے تمام احکامات وہدایات پر عمل کیا جائے ۔      

"اللہ کے رسول کے لیے"  یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بر حق نبی آخر الزمان مان کر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا،ان کو ہر گناہ سے معصوم ماننا،  ان کا اتباع کرنا ، ان کی تعلیمات کو عام کرنا، آپ کو افضل البشر ماننا وغیرہ۔ 

"مقتداؤں کے لیے" یعنی  حاکموں  کی  حق بات میں معاونت اور اطاعت کی جائے، ان کو حق بات نرمی  سے سمجھائی جائے، اور ان کے ساتھ غداری نہ  کی جائی۔ شارحین اس جملہ کا ایک معنی اور ذکر  کر تے ہیں کہ اس سے مراد علماءِ امت ہیں، اس صورت میں نصیحت کا مطلب یہ ہوگا کہ دینی مسائل میں ان کی اتباع کی جائے، ان کے ساتھ اچھا گمان کیا جائے، ان کے علوم سے استفادہ کیا جائے، اور ان کی تعظیم وتکریم کی جائے۔ 

"عام مسلمانوں کے لیے"  یعنی عام مسلمانوں سے سلام اور مصافحہ کرے، جھگڑا نہ کرے،ان کے پورے  پورے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے۔ مشکل وقت میں ان کاہاتھ بٹایا جائے، ان کی تعلیم اور تربیت کا خاص خیال رکھا جائے، ان کے غم میں شرکت کی جائے،اور اپنی وسعت کے مطابق ان سے تعاون کیا جائے۔ 

مذکورہ بالا تشریح سے امام نووی رحمہ اللہ کا قو ل سمجھ آتا ہے : 

هذا حديثٌ عظيم الشَّأن وعليه مدار الإسلام.

(شرح النووي على صحيح مسلم، يحيى بن شرف النووي، دار إحياء التراث العربي - بيروت، باب بيان أن الدين النصيحة، ٢/٣٧)

يه ايك عظیم الشان حدیث ہے ، جس پر   اسلام کا مدار ہے۔ 

مزید تفصیلات کے لیے اردو میں  "درس مسلم ۱/۳۹۳"   از مفتی  محمد رفیع عشمانی صاحب رحمہ اللہ  کی اور "تحفۃ المنعم  شرح صحیح مسلم ۱/۴۰۶"  از حضرت مولانا فضل محمد مدظلہم ملاحظہ لیجیے۔

قالا الإمام النووي رحمه الله تعالى: 

أما النصيحة لله تعالى، فمعناها: منصرف إلى الإيمان به ونفي الشريك عنه وترك الإلحاد في صفاته ووصفه بصفات الكمال والجلال كلها وتنزيهه سبحانه وتعالى من جميع النقائص والقيام بطاعته واجتناب معصيته والحب فيه والبغض فيه، وموالاة من أطاعه، ومعادة من عصاه، وجهاد من كفر به، والاعتراف بنعمته وشكره عليها، والإخلاص في جميع الأمور، والدعاء إلى جميع الأوصاف المذكورة، والحث عليها، والتلطف في جميع الناس، أو من أمكن منهم عليها، قال الخطابي رحمه الله: «وحقيقة هذه الإضافة راجعة إلى العبد في نصحه نفسه، فالله تعالى غني عن نصح الناصح».

وأما النصيحة لكتابه سبحانه وتعالى: فالإيمان بأن كلام الله تعالى وتنزيله لا يشبهه شيء من كلام الخلق ولا يقدر على مثله أحد من الخلق، ثم تعظيمه وتلاوته حق تلاوته، وتحسينها، والخشوع عندها، وإقامة حروفه في التلاوة، والذب عنه لتأويل المحرفين، وتعرض الطاعنين، والتصديق بما فيه، والوقوف مع أحكامه، وتفهم علومه وأمثاله والاعتبار بمواعظه، والتفكر في عجائبه، والعمل بمحكمه والتسليم لمتشابهه، والبحث عن عمومه وخصوصه وناسخه ومنسوخه، ونشر علومه، والدعاء إليه، والى ما ذكرناه من نصيحته.

وأما النصيحة لرسول الله صلى الله عليه وسلم: فتصديقه على الرسالة، والإيمان بجميع ما جاء به، وطاعته في أمره، ونهيه ونصرته حيا وميتا، ومعاداة عن من عاداه، وموالاة من والاه، وإعظام حقه وتوقيره، وإحياء طريقته وسنته، وبث دعوته، ونشر شريعته، ونفي التهمة عنها، واستثارة علومها، والتفقه في معانيها، والدعاء إليها، والتلطف في تعلمها، وتعليمها وإعظامها وإجلالها، والتأدب عند قراءتها، والإمساك عن الكلام فيها بغير علم، وإجلال أهلها لانتسابها إليها، والتخلق بأخلاقه، والتأدب بآدابه، ومحبة أهل بيته وأصحابه، ومجانبة من ابتدع في سنته أوتعرض لأحد من أصحابه، ونحو ذلك.
وأما النصيحة لأئمة المسلمين: فمعاونتهم على الحق وطاعتهم فيه، وأمرهم به، وتنبيهم وتذكيرهم برفق ولطف، وإعلامهم بما غفلوا عنه ولم يبلغهم من حقوق المسلمين، وترك الخروج عليهم، وتألف قلوب الناس لطاعتهم... وقد يتأول ذلك على الأئمة الذين هم علماء الدين وأن من نصيحتهم قبول ما رووه وتقليدهم في الأحكام وإحسان الظن بهم.

وأما نصيحة عامة المسلمين: وهم من عدا ولاة الأمر، فإرشادهم لمصالحهم في آخرتهم ودنياهم، وكف الأذى عنهم، فيعلمهم ما يجهلونه من دينهم ويعينهم عليه بالقول والفعل، وستر عوراتهم، وسد خلاتهم، ودفع المضار عنهم، وجلب المنافع لهم، وأمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر برفق وإخلاص، والشفقة عليهم، وتوقير كبيرهم، ورحمة صغيرهم، وتخولهم بالموعظة الحسنة، وترك غشهم وحسدهم، وأن يحب لهم ما يجب لنفسه من الخير، ويكره لهم ما يكره لنفسه من المكروه، والذب عن أموالهم وأعراضهم وغير ذلك من أحوالهم بالقول والفعل، وحثهم على التخلق بجميع ما ذكرناه من أنواع النصيحة، وتنشيط هممهم إلى الطاعات... قال بن بطال رحمه الله: «في هذا الحديث أن النصيحة تسمى دينا وإسلاما، وأن الدين يقع على العمل كما يقع على القول، قال: والنصيحة فرض يجزي فيه من قام به ويسقط عن الباقين، قال: والنصيحة لازمة على قدر الطاقة، إذا علم الناصح أنه يقبل نصحه ويطاع أمره وأمن على نفسه المكروه، فإن خشي على نفسه أذى فهو في سعة، والله أعلم.

(شرح النووي على صحيح مسلم، ٢/٣٨-٣٩)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503102275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں