بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اکیلے عید کی نماز پڑھنے کاحکم


سوال

عید کی نماز اکیلے پڑھ سکتے ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عید کی نماز  شعائر  اسلام میں سے بنیادی شعار ہے، اورعید کی نماز سے مقصود مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ایک جماعت میں شریک ہوسکیں۔شہر، فنائے شہر اور بڑے گاؤں میں جہاں جمعہ قائم کرنے کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں عید کی نماز  جماعت کے ساتھ  پڑھنا واجب ہے۔

جن ممالک  میں حکومت کی طرف سے مساجد یا عید کی نمازوں پر پابندی نہ ہو وہاں گھروں میں عید کی نماز ادا کرنے کے بجائے عیدگاہ یا بڑےمجمع میں  یا مساجد میں ادا کرنے کا اہتمام ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کی شان وشوکت اظہار ہو۔البتہ  اگر کسی ملک میں موجودہ حالات کی وجہ سے  حکومت نے عید گاہ یا مسجد میں عید کی نماز پڑھنے پر پابند ی لگائی ہو تو   شہر، فنائے شہر یا بڑے گاؤں کے رہنے والے مسلمان ممکنہ حد تک کوشش کریں کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں یا مسجد میں پڑھ سکیں، لیکن اگرعید کی نماز عید گاہ یا مسجد میں پڑھنا بالکل ممکن نہ ہو تو  گھر کی چھت، صحن یا بلڈنگ کی پارکنگ، کمرے وغیرہ میں چند افراد جمع ہو کر عید کی نماز پڑھ لیں۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ جمعہ اور عید کی نمازوں کے لیے جماعت کا ہونا شرط ہے، انفرادی طور پر جمعہ یا عید کی نماز ادا کرنا درست نہیں، جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، اور عید کی نماز   درست ہونے کے لیے امام کے علاوہ کم از کم  ایک مرد کا ہونا کافی ہے،اور  امام کے علاوہ صرف خواتین کے ہونے سے بھی عید کی نماز ادا نہیں ہوگی۔

بصورت مسئولہ عید کی نماز کے لیے  کم از کم دو بالغ افراد کی جماعت شرط ہے، لہذا اکیلے آدمی کے لئے تنہا  عید کی نماز پڑھنا جائز نہیں، 

بدائع الصنائع میں ہے

"ولأنها من شعائر الإسلام فلو كانت سنةً فربما اجتمع الناس على تركها فيفوت ما هو من شعائر الإسلام؛ فكانت واجبةً؛ صيانةً لما هو من شعائر الإسلام عن الفوت" (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج:3 ص: 84 ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے

"وفي الخلاصة والخانية: السنة أن يخرج الإمام إلى الجبانة، ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على أن صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق، وإن لم يستخلف فله ذلك.(الرد المحتار علی الدر المختار،ج:2 ص:169،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے

"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها، وفي الرد: "لكن اعترض ط ما ذكره المصنف بأن الجمعة من شرائطها الجماعة التي هي جمع والواحد هنا مع الإمام، كما في النهر"(الرد المحتار ج:2 ص:166 ط:ایچ ایم سعید)فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109203362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں