بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایک تہائی سینگ کٹے ہوں تو قربانی کا حکم


سوال

ایک جانور کے دونوں سینگ ایک تہائی کٹے ہوۓ  ہیں،  کیا اس کی قربانی جائز ہے؟

جواب

جس جانور کے دونوں سینگ ایک تہائی کٹے ہوں اس کی قربانی درست ہے۔

"و کذا مکسورة القرن، بل أولیٰ لما قلنا."

(تبیین الحقائق، کتاب الأضحیة، مکتبه زکریا دیوبند ۶/ ۴۷۹، إمدادیه ملتان ۶/ ۵)

"عن علي -رضی اﷲ عنه- قال: نهی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم أن یضحي بأعضب القرن والأذن."

( جامع الترمذي ، الأضاحي، باب في الضحیة بعضباء القرن والأذن، النسخة الهندیة ۱/ ۲۷۶، دارالسلام رقم: ۱۵۰۴)

"ویضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، و کذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالکسر أو غیره."

(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الأضحیة، مکتبه زکریا دیوبند ۹/ ۴۶۷، کراچی ۶/ ۳۲۳)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں