بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایمان بچانے سے متعلق ایک روایت کی تحقیق


سوال

"جو شخص دنیا سے رائی کے دانے کے برابر ایمان بچا کے لے جائے گا ،اللہ تعالی اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے "،کیا یہ حدیث ہے ؟

 

جواب

ان الفاظ کے ساتھ کہ :"جو شخص دنیا سے رائی کے دانے کے برابر ایمان بچا کے لے جائے گا ،اللہ تعالی اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے "،کوئی روایت ہمیں نہیں مل سکی، البتہ اس کے قریب قریب مضمون کی روایات احادیث کی کتب میں موجود ہیں، جن میں یہ صراحت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، انہیں جنت نصیب ہوگی، رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان والا شخص نبی کریم ﷺکی آخرت میں سفارش کا مستحق ہوگا، اور سفارش کے ذریعہ جنت میں داخل ہوگا،نیز ایک روایت جو مختلف کتب حدیث میں بہ شمول بخاری ومسلم کے  موجود ہے کہ جنت میں ایک شخص جو سب سے آخر میں داخل ہوگا اسے اللہ تعالیٰ اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے۔

ملاحظہ ہو:

صحيح البخاري - (1 / 12):

"عن أبي سعيد الخدري ، رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يدخل أهل الجنة الجنة و أهل النار النار، ثم يقول الله تعالى: أخرجوا من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان، فيخرجون منها قد اسودّوا؛ فيلقون في نهر الحيا، أو الحياة -شكّ مالك- فينبتون كما تنبت الحبة في جانب السيل ألم تر أنها تخرج صفراء ملتوية."

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ  ﷺ نے فرمایا: (جب)  جنت  والے  جنت میں اور  دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ (فرشتوں) سے فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو (دوزخ سے) نکال لو، پس وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور وہ (جل کر) سیاہ ہوچکے ہوں گے، پھر وہ نہر حیا، یا نہر حیات میں ڈال دیے جائیں گے، تب وہ تروتازہ ہوجائیں گے، جس طرح دانہ (تروتازگی اور سرعت  کے ساتھ)  بہنے والے پانی کے  کنارے اگتا ہے، (اے شخص) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دانہ کیسا سبز کونپل زردی مائل نکلتا ہے؟

صحيح مسلم - (1 / 65):

"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لايدخل النار أحد في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان و لايدخل الجنة أحد في قلبه مثقال حبة خردل من كبرياء»."

ترجمہ:حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔

صحيح البخاري - (9 / 179):

"عن حميد قال: سمعت أنسًا رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إذا كان يوم القيامة شفعت، فقلت: يا ربّ أدخل الجنة من كان في قلبه خردلة؛ فيدخلون، ثم أقول: أدخل الجنة من كان في قلبه أدنى شيء، فقال أنس: كأني أنظر إلى أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم."

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے روایت ہے کہ: میں نے نبی  کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ :جب قیامت کا دن آئے گا تو میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں  درخواست کروں گا: اے پروردگار ! ہر اس شخص کو جنت میں داخل کردے  جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو ،چنانچہ وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ۔پھر میں  کہوں گا: ہر اس شخص کو جنت میں داخل کر دے جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں گویا رسول اللہ ﷺکی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں (جن سے اشارہ کرتے ہوئے آپ  ﷺ نے فرمایا تھا)۔

صحيح البخاري ـ - (8 / 146):

"عن عبد الله ، رضي الله عنه ، قال النبي صلى الله عليه وسلم: إني لأعلم آخر أهل النار خروجًا منها و آخر أهل الجنة دخولًا، رجل يخرج من النار كبوًا، فيقول الله: اذهب فادخل الجنة، فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى، فيرجع فيقول: يا رب وجدتها ملأى، فيقول: اذهب فادخل الجنة، فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى، فيقول: يا رب وجدتها ملأى، فيقول: اذهب فادخل الجنة؛ فإن لك مثل الدنيا وعشرة أمثالها، أو إن لك مثل عشرة أمثال الدنيا، فيقول: تسخر مني، أو تضحك مني و أنت الملك! فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه، وكان يقال: ذلك أدنى أهل الجنة منزلةً."

ترجمہ :حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ نبی  کریم ﷺنے فرمایا کہ :میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل  ہوگا، وہ آدمی ہوگا جو دوزخ سے اوندھے منہ نکلے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ ،وہ جنت میں آئے گا ،اس کو خیال آئے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے ،چناں چہ وہ لوٹ کر آئے گا اور عرض کرے گا :یا رب! میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا ،وہ جنت میں جائے گا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے ،چناں چہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا :یا رب !میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا جنت میں داخل ہوجا ،تیرے  لیے  اس میں دنیا کے برابر اور اس کے دس گنا  برابر ہے یا فرمایا کہ تیرے  لیے دنیا کی مثل دس گنا ہے۔  وہ کہے گا کہ آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں یا ہنسی کرتے ہیں،حال آں کہ آپ بادشاہ ہیں!  میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ  ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ  کی مبارک ڈاڑھیں ظاہر ہوگئے اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں کا ادنیٰ مرتبہ ہے۔

صحيح مسلم ـ - (1 / 118):

"عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إنى لأعلم آخر أهل النار خروجا منها وآخر أهل الجنة دخولا الجنة رجل يخرج من النار حبوا فيقول الله تبارك وتعالى له اذهب فادخل الجنة فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى فيرجع فيقول يا رب وجدتها ملأى. فيقول الله تبارك وتعالى له اذهب فادخل الجنة - قال - فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى فيرجع فيقول يا رب وجدتها ملأى فيقول الله له اذهب فادخل الجنة فإن لك مثل الدنيا وعشرة أمثالها أو إن لك عشرة أمثال الدنيا - قال - فيقول أتسخر بى - أو أتضحك بى - وأنت الملك » قال لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه. قال فكان يقال ذاك أدنى أهل الجنة منزلة."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (8 / 3561):

"(فإن لك مثل الدنيا) أي: في سعتها وقيمتها (وعشرة أمثالها) أي: زيادة عليها في الكمية والكيفية، وفيه إيماء إلى قوله تعالى: {من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها} [الأنعام: 160] ، فالمؤمن حيث ترك الدنيا وهي صارت كالحبس في حقه جوزي بمثلها عدلا وأضعافها فضلا، (فيقول: أتسخر) : بفتح الخاء أي: أتستهزئ (مني - أو تضحك مني -) : شك من الراوي (وأنت الملك)؟ أي: والحال أنت الملك القدوس الجليل. (فلقد رأيت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ضحك حتى بدت) أي: ظهرت (نواجذه) أي: أواخر أضراسه، (وكان يقال) : الظاهر أن هذا كلام عمران، أو من بعده من الرواة، فالمعنى: وكان يقول الصحابة أو السلف (ذلك أدنى أهل الجنة منزلة. متفق عليه)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں