بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے کے ناجائز ہونے کی دلیل


سوال

میں یہ مانتا ہوں کہ ایک مٹھی داڑھی رکھنا افضل ہے، لیکن مجھے ایسی احادیث کا حوالہ دے دیں کہ جس  میں  ایک مٹھی سے کم داڑھی کو "حرام اور گناہ کبیرہ" قرار دیا گیا ہو!

جواب

داڑھی  تمام انبیاءِ  کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور  مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کا اپنی امت کو  حکم دیا ہے، اس لیے  جمہور علماءِ  امت کے نزدیک ایک مشت داڑھی رکھنا واجب اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرنا  حرام اور کبیرہ گناہ ہے اور  اس کا  مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے۔

ایک ہے نفسِ داڑھی کا ثبوت ، یہ حکم  کئی احادیث سے ثابت ہے ، اور خلاف ورزی کی ممانعت بھی صراحتاً موجود ہے۔اور دوسری چیز ہے ایک مشت تک داڑھی کے رکھنے کا لازم ہونا،یہ امر بھی روایات میں صحابہ کرام سے ثابت ہے ۔دونوں کے دلائل درج ذیل ہیں :

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے "بزار" نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجوسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔

 "عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خالفوا على المجوس جزوا الشوارب وأوفوا اللحى".

(مسند البزار = البحر الزخار ۔13/ 90)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے    کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

" عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس".

(صحیح مسلم، کتاب الطهارة / باب خصال الفطرة ۱؍۱۲۹رقم:۲۶۰بیت الأفکار الدولیة)

مذکورہ بالا احادیث  میں صراحت سے داڑھی کے بڑھانے کا حکم ہے، اور رسول اللہ  ﷺ  کے صریح حکم کی خلاف ورزی ناجائز اور حرام ہے۔

اسی معنی کی مزید احادیث درج ذیل ہیں:

" عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم: أحفوا الشوارب وأعفوا اللحی".

( جامع الترمذي، أبواب الأدب، باب ماجاء في إعفاء اللحیة، النسخة الهندیة ۲/ ۱۰۵، دارالسلام رقم:۲۷۶۳) 

"وعن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: انهکوا الشوارب وأعفوا اللحی".

(صحیح البخاري، کتاب اللباس / باب إعفاء اللحی۲؍۸۷۵رقم:۵۸۹۳دار الفکر بیروت)

صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - (7 / 206)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ وَفِّرُوا اللّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ ، أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.

ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ، مونچھیں کترواؤ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مشت میں لیتے، جو مشت سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے تھے۔ 

 واضح رہے کہ کسی فعل کے حرام ہونے کے لیے قرآنِ مجید یا احادیثِ نبویہ میں لفظِ حرام کہہ کر اس کا حکم  "حرام"  بیان کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ بعض مرتبہ اشارۃً ایک حکم مذکور ہوتاہے اور اس کا حکم حرام یا فرض کا درجہ رکھتاہے، قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں بیان کردہ احکام کے مراتب ودرجات جاننے کا ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے شاگردوں (تابعین رحمہم اللہ) کی تشریحات ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آثار سے احکامِ اسلام کا مرتبہ متعین ہوجاتاہے؛ کیوں کہ وہ آپ ﷺ کے براہِ راست شاگرد، وحی کے نزول کے شاہد اور کمال درجہ شوق کے ساتھ آپ ﷺ سے دین کو سیکھنے سمجھنے والے ہیں، انہیں کسی فعل میں آپ ﷺ سے رخصت ملی تو بلا کم وکاست پوری امانت داری کے ساتھ امت تک رخصت والا وہ عمل بھی پہنچایاہے، آپ ﷺ نے خود بھی داڑھی رکھی ،  تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی داڑھی رکھی، اور آپﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی داڑھی بڑھانے کاحکم دیا،اور کسی نبی علیہ السلام یا صحابی رضی اللہ عنہ سے داڑھی صاف کرنا ثابت نہیں، ہاں بعض  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتنا آتاہے کہ وہ ایک مشت تک داڑھی کو درست کرتے تھے، اس سے کم داڑھی رکھنا کسی سے منقول نہیں ہے، اور درج بالا احادیث میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ آپﷺ نے صاف اور دو ٹوک حکم دیا ہے کہ داڑھی بڑھاؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے وجوب ہی سمجھا، تب ہی خود بھی شدت سے عمل کیا اور آنے والی امت کو یہی امانت حوالہ کرکے گئے، ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگردوں نے وہی امانت امت تک پہنچائی ہے، انہوں نے دین کے مسائل خود سے نہ بنائے ہیں اور نہ ہی خود سے احکام کے مراتب متعین کیے ہیں، فقہاءِ کرام رحمہم اللہ تب تک کسی چیز کا حکم اور اس حکم کا درجہ متعین نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس قرآن وحدیث سے دلیل موجود نہ ہو، خواہ صراحتاً ہو یا اشارۃً۔

یہ بات بھی قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً اور اشارۃً موجود ہے کہ  مسلمان اہلِ علم کا اجماع/ اتفاق مستقل حجتِ شرعیہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث میں کوئی حکم صراحتاً موجود نہ ہو ،لیکن صحابہ کرام یا قرونِ اولیٰ کے اہلِ علم کسی آیت یا حدیث کی مراد پر متفق ہوجائیں تو یہ اجماع خود حجتِ شرعیہ ہے، اس اجماع سے ہی حکم کا درجہ متعین ہوجاتاہے،لہٰذا جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین وتبع تابعین اورفقہاء مجتہدین رحمہم اللہ قرآن وحدیث سے ایک مسئلے  (داڑھی صاف کرنے یا ایک مشت سے کم کرنے ) کا حکم سمجھ کر اس کے درجے پر متفق ہیں تو ان حضرات کا اجماع ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے، خواہ قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً حرمت نہ بھی موجود ہو، چہ جائے کہ داڑھی بڑھانے کے وجوب پر صراحتاً دلالت کرنے والی احادیث موجود ہیں جن کی جانبِ مخالف (واجب کو ترک کرنا) حرام ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206201060

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں