بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک کنال زمین کو دو کنال کے بدلے فروخت کرنے کا حکم


سوال

کیا ایک کنال زمین دو کنال زمین کے بدلے فروخت کرنا جائز ہے؟

جواب

زمین، اموالِ ربویہ یعنی ان چیزوں  میں سے نہیں، جن کی تبادلے کے ساتھ خریدوفروخت میں کمی بیشی ناجائز ہوتی ہے، لہذا ایک کنال زمین کو دو کنال زمین کے بدلے نقد فروخت کرنا جائز ہے۔

"(وعلته) أي علة تحريم الزيادة (القدر) المعهود بكيل أو وزن (مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) أي الزيادة (والنساء) بالمد التأخير فلم يجز بيع قفيز بر بقفيز منه متساويا وأحدهما نساء (وإن عدما) بكسر الدال من باب علم ابن مالك (حلا) كهروي بمرويين لعدم العلة فبقي على أصل الإباحة (وإن وجد أحدهما) أي القدر وحده أو الجنس (حل الفضل وحرم النساء) ولو مع التساوي، حتى لو باع عبدًا بعبد إلى أجل لم يجز لوجود الجنسية". (الدر المختار: ٥/ ١٧١،١٧٢) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200867

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں