بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی کے انتظام کے حق الخدمت اوراجرت لینے کاحکم


سوال

ہم اپنے مدرسہ کے تحت گزشتہ کئی سالوں سے اجتماعی قربانی کر رہے ہیں،جس سے مدرسہ کو کھالوں کا دائرہ پہنچتا تھا، مگر گزشتہ چند سالوں سے کھالوں کی قیمت گر جانے کی وجہ سے ہم نے یہ طے کیا کہ ہر حصہ دار پر کچھ رقم مثلا دو ہزار روپے سروس چارجز کے مد میں لاگو کیا جائے، جس کی ہم بصراحت تحریرا ہر حصہ دار کوپڑھاتے ہیں جس میں یوں صراحت کی جاتی ہے کہ " ادارہ ہر حصہ دار سے قربانی کی وصول شدہ رقم میں سے سروس چارجز کی مد میں 2000 روپے منہا کرے گا، یہ رقم مدرسہ خالصتا اپنی صوابدید پر اپنے مفاد میں خرچ کرے گا، بقیہ رقم سے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے خدام کا حق الخدمت، جانور کی خریداری، چارہ، ، کرایہ ، قصائی کی اجرت سمیت قربانی سے متعلقہ دیگر پیش آمدہ اخراجات میں خرچ کرے گا" نیز اس سروس چارجز میں سے صرف خریداری ٹیم ( اساتذہ و طلبہ) کو ان کا حق الخدمت ادا کرتے ہیں، بقیہ رقم مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ صورت جائز ہے کہ نہیں؟۔ اگر یہ صورت جائز نہیں تو اس کا متبادل جائز صورت کیا ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے ادارہ / فرد  کی جانب سے اگر  ابتداءً حصہ لینے والے افراد پر  یہ بات واضح کردی جائے کہ  ان کی جانب سے قربانی کی ذمہ داری ادا کرنے پر  فرد یا ادارہ  ایک متعین اجرت لے گا، تو  اس صورت میں  اجرت لینا جائز ہوگا، البتہ أجرت کا شروع سے ہی معین ہونا ضروری ہوگا، غير متعین یا مبہم  اجرت ( جیساکہ  یوں کہنا کہ: قربانی کے بعد جو رقم بچے گی فرد یا ادارہ کی أجرت ہوگی) لینا جائز نہ ہوگا۔

 الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار میں ہے:

"وشرطها: كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة."

( كتاب الاجارة، ص: ٥٦٩، ط: دار الكتب العلمية)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" میں ہے:

"وشرطها ما تقدم من كون الأجرة والمنفعة معلومتين، وحكما وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة كما مر.

وفي المنح: ولا تنعقد الإجارة الطويلة بالتعاطي؛ لأن الأجرة غير معلومة قد يجعلون لكل سنة دانقا وقد يجعلون فلوسا وفي غير الطويلة الإجارة تنعقد بالتعاطي كذا في الخلاصة قلت: مفاد كلامه أن الأجرة إذا كانت معلومة في الإجارة الطويلة تنعقد بالتعاطي انتهى."

( كتاب الاجارة، ٢ / ٣٦٩، ط: دار إحياء التراث العربي)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411101864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں