بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اجنبی مرد و عورت کا بوس و کنار کرنا اور اس کی سزا کیا ہے؟


سوال

غیر مرد و عورت کا آپس میں بوس و کنار کرنے کا کیا حکم ہے؟

اگر کوئی غیر مرد و عورت ایسا عمل کرتے ہیں تو اسلام نے ان کی کیا سزا مقرر کی ہے  جب کہ اسلام میں ایسے اعمال کو بھی زنا سے تشبیہ دی ہے؟

جواب

بیوی اور اپنی مملوکہ باندی کے علاوہ باقی کسی بھی  خاتون سے جنسی تعلقات رکھنا، خواہ بوس و کنار یا لمس کی حد تک ہی ہو،  بنصِ قرآن و حدیث  حرام ہے، لہذا اس گناہ کبیرہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، توبہ کی شرائط میں سے ہے کہ اپنے کیے پر ندامت ہو، آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو، اور ایسے ناجائز روابط سے بالکلیہ قطع تعلق کرلیاجائے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذِيْن هُم لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ  اِلَّا عَلٰى اَزْوَاجِهِم اَو مَا مَلَـكَت اَيمانُهُم فَاِنَّهُم غَير مَلُومِيْنَ  فَمَنِ ابْتَغى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰئِكَ هُمُ العٰدُوْنَ‌ [ المؤمنون: 5، 6 ،7]

ترجمہ: اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر سو ان پر نہیں کچھ الزام، پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے۔

(از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ) ( معارف القرآن از مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ)

البتہ بوس و کنار یا چھونا  گناہ کے اعتبار سے زنا کے حکم میں ہے، کیوں کہ یہ بڑے گناہ تک لے جانے والے اعمال ہیں، اسی بنا پر حدیث میں انہیں زنا کہا گیا ہے، تاہم اس پر شریعت مطہرہ نے حد زنا جاری نہیں کی ہے، بلکہ اس عمل پر تعزیری سزا دی  جا سکتی  ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202555

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں