بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

اجیر کی اجرت کام کی نوعیت پر موقوف ہے


سوال

جس شخص کا کام رشوت اور سود کا ہو اس کو  اگر کوئی کام دیں کہ تم یہ کام کرلو اور تمہاری یہ اجرت ہوگی تو آیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کام جائز ہے اور مذکورہ شخص پر کسی ادارے یا محکمہ کی طرف سے اس کام  کی  انجام دہی کی ذمہ داری بھی نہیں ہے  اور   وہ شخص کسی ادارے سے  اس کی  تنخواہ بھی  وصول نہیں کرتا تو ایسے شخص کو اجرت دے کر کام کروانا جائز ہے۔ اگر کام جائز نہیں ہے یا کام تو جائز ہے لیکن   مذکورہ شخص  کسی ادارے یا محکمہ سے اس کام کی انجام دہی پر مامور ہے اور اس کی تنخواہ لیتا ہے تو اسی صورت میں  اس شخص کو  دی جانے والی رقم اجرت نہیں بلکہ  رشوت ہے، (چاہے نام کچھ بھی دے دیا جائے)،  اور رشوت کا لین دین جائز نہیں۔ حدیث شریف میں رشوت دینے اور  رشوت لینے والوں کے بارے میں بہت سخت وعید وارد ہوئی ہے۔  چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

" حدثنا ابن أبي ذئب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»."

(سنن الترمذی،باب ما جاء في الراشي والمرتشي في الحكم، ج:3/ صفحہ:615، رقم الحدیث: 1337، ط: مصطفى البابي الحلبي - مصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل. "

(کتاب النکاح،ج: 1/ صفحہ: 156، ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں