بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں بلا ضرورت مسجد سے باہر جانا


سوال

اگر کوئی بندہ صاحبین کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے اعتکاف کر رہا ہے اور دن کا کچھ حصہ مسجد کے باہر گزارتا ہے گھریلو ضرورت کے پیش نظر ، کیا باہر رہتے ہوئے بھی وہ معتکف ہے؟ اور اگر رات کے وقت کچھ دیر باہر جا رہا ہے تو کیا بیوی سے استفادہ اس کے لئے جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان کےمسنون اعتکاف کے لئے جمہور احناف کے نزدیک  پورا وقت مسجد  میں گزارنا ضروری ہے، سواۓ قضاۓ حاجات  کے مسجد کی  حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں  سائل کا اعتکاف ، شرعی مسنون اعتکاف نہیں ہوگا، بلکہ نفلی اعتکاف ہو گا، چناں چہ سائل پر مسنون اعتکاف کی پابندیاں بھی لازم نہ ہوں گی، نفلی اعتکاف میں مسجد سے باہر نکلنا اور رات کو گھر جا کر بیوی سے قربت کرنا جائز ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

'' قوله: "بلا عذر معتبر" أي في عدم الفساد فلو خرج لجنازة محرمة أو زوجته فسد ؛ لأنه وإن كان عذراً إلا أنه لم يعتبر في عدم الفساد، قوله: "ولا إثم عليه به" أي بالعذر أي وأما بغير العذر فيأثم ؛ لقوله تعالى: ﴿ وَلَا تُبْطِلُوْآ اَعْمَالَكُمْ ﴾''

(كتاب الاعتكاف،‌‌باب الاعتكاف،٧٠٣،ط:دار الكتب العلمية)

 فتاوى ہندية میں ہے :

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصوم وفيه سبعة أبواب، الباب السابع: في الإعتكاف،1 /212 ط:رشیدیة)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروجلأنه منه لا مبطل كما مر (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذنا وباب المنارة خارج المسجد و (الجمعة وقت الزوال ومن بعد منزله) أي معتكفه (خرج في وقت يدركها) (فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد) فيقضيه إلا إذا أفسده بالردة واعتبرا أكثر النهار قالوا: وهو الاستحسان وبحث فيه الكمال (و) إن خرج (بعذر يغلب وقوعه) وهو ما مر لا غير (لا) لا يفسد وأما ما لا يغلب كإنجاء غريق وانهدام مسجد فمسقط للإثم لا للبطلان وإلا لكان النسيان أولى بعدم الفساد كما حققه الكمال خلافا لما فصله الزيلعي وغيره مع سنتها يحكم في ذلك رأيه، ويستن بعدها أربعا أو ستا على الخلاف، ولو مكث أكثر لم يفسد لأنه محل له وكره تنزيها لمخالفة ما التزمه بلا ضرورة."

(کتاب الصوم،باب،الإعتكاف، 2 /444،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101766

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں