بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کے دوران ناخن، زیر ناف بال کاٹنے اورغسلِ جمعہ کا حکم


سوال

کیا اعتکاف کے دوران ناخن اور زیر ناف بال کاٹ سکتے ہیں ؟ اعتکاف میں جمعہ کے دن غسل کا کیا حکم ہے ؟

جواب

اعتکاف کے دوران مسجد میں ناخن  کاٹنے کی اجازت ہے، لیکن احتیاط رہے کہ ناخن وغیرہ مسجد  کی حدود میں  نہ گرنے پائیں ۔

 اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے تمام غیر ضروری بالوں کی صفائی کرلینی چاہیے، اور اگر کسی کے چالیس دن  اعتکاف کے دوران مکمل ہورہے  ہوں تو ایسے شخص کے لیے اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ہی صفائی کرلینا ضروری ہے، تاہم اگر کسی نے صفائی نہ کی ہو اور دورانِ اعتکاف چالیس دن مکمل ہوجائیں تو اس کے لیے صفائی کے لیے بیت الخلا میں قضائے حاجت کے دوران بالوں کی صفائی  کی اجازت ہوگی، تاہم صفائی کے نام پر بلا ضرورت زائد وقت بیت الخلاء وغیرہ میں گزارنے کی اجازت نہ ہوگی ،البتہ وہ افراد جن کے چالیس دن مکمل نہ ہوئے ہوں ان کے لیے زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے لیے جانے کی شرعاً اجازت نہ ہوگی،اگر کوئی چلا گیا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

اعتکاف کے دوران معتکف کے لیے  طبعی یا شرعی ضرورت کے علاوہ کے لیے مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، غسلِ جمعہ  نہ طبعی ضرورت میں شامل ہے اور نہ ہی شرعی ضرورت میں، لہذا مسنون اعتکاف میں صرف  جمعے کے غسل کے لیے  باہر نکلنا جائز نہیں ہے ،اس سے اعتکاف فاسد ہوجاۓگا۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"سئل أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - عن المعتكف إذا احتاج إلى الفصد أو الحجامة هل يخرج".

(کتاب الکراهیة،الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، 320،21/5،ط:رشیدیة)

وفیہ ایضاً:

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة ‌فسد ‌اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان."

( کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، 212/1، ط:رشیدیة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن عائشة - رضي الله عنها - أنها قالت: «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يخرج رأسه من المسجد فيغسل رأسه» وإن ‌غسل ‌رأسه في المسجد في إناء لا بأس به إذا لم يلوث المسجد بالماء المستعمل، فإن كان بحيث يتلوث المسجد يمنع منه؛ لأن تنظيف المسجد واجب لو توضأ في المسجد في إناء؛ فهو على هذا التفصيل."

وفیہ ایضاً:

"إذا خرج لحاجة الإنسان ومكث بعد فراغه أنه ينتقض اعتكافه عند أبي حنيفة قل مكثه أو كثر، وعندهما لا ينتقض ما لم يكن أكثر من ‌نصف ‌يوم."

(کتاب الصوم ،کتاب الاعتکاف،فصل رکن الاعتکاف،284/2،ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لأنه محل له) أي مسجد الجمعة ‌محل ‌للاعتكاف وفيه إشارة إلى الفرق بين هذا وبين ما لو خرج لبول أو غائط ودخل منزله ومكث فيه حيث يفسد كما مر وفي البدائع وما روي عنه - صلى الله عليه وسلم - من الرخصة في عيادة المريض وصلاة الجنازة فقد قال أبو يوسف: ذلك محمول على اعتكاف التطوع ويجوز حمل الرخصة على ما لو خرج لوجه مباح كحاجة الإنسان أو الجمعة وعاد مريضا أو صلى على جنازة من غير أن يخرج لذلك قصدا وذلك جائز اهـ وبه علم أنه بعد الخروج لوجه مباح إنما يضر المكث لو في غير مسجد لغير عيادة (قوله لمخالفة ما التزمه) أي من الاعتكاف في المسجد الأول لأنه لما ابتدأ الاعتكاف فيه، فكأنه عينه لذلك فكره تحوله عنه مع إمكان الإتمام فيه بدائع................................. لأن الخروج مضاد لحقيقة الاعتكاف الذي هو اللبث والإقامة."

(کتاب الصوم ،باب الاعتکاف،446/2،ط:سعید)

حاشیۃ ططاوی علی مراقي الفلاح میں ہے: 

"ولايخرج منه" أي من معتكفه فيشمل المرأة المعتكفة بمسجد بيتها "إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام لأنه عليه السلام كان لايخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان "أو" حاجة "ضرورية كانهدام المسجد".

(کتاب الصوم، باب الاعتكاف،119،ط:مطبعة العلمیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144409101589

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں