بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں موبائل میں لڈو گیم کھیلنا


سوال

مسجد میں اعتکاف کی صورت میں موبائل پہ لڈو کھیلنا کیسا ہے؟

جواب

اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کا قرب  حاصل کرنا ،  ہر طرف سے یک سو  ہو کر اس کی عبادت میں مشغول رہنا  اور اس سے  تعلق جوڑنا ہے، ایک متعین وقت کے لیے  دنیا کی رنگارنگی سے کنارہ کش ہوکر  صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ  سے خلوت اور تنہائی میں لو لگانا ہے،  اعتکاف کے دوران نفس ِ موبائل کا استعمال  اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے، پھر اگر اس میں لڈو کھیلا جائے تو اس میں وقت کا ضیاع بھی ہے اور مسجد کے تقدس کی پامالی اور بے حرمتی بھی ہے، اس لیے مسجد  عبادت کی جگہ ہے، کھیل کود کی جگہ نہیں ہے، اس لیے اعتکاف کے دوران موبائل میں لڈو کھیلنا جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔ نیز اسمارٹ فون  کے استعمال میں اگر جان دار کی تصویر یا ویڈیو دیکھنا پایا جائے تو یہ مستقل گناہ اور مسجد کی مزید بے حرمتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 448):

"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)".

و في الرد:

"(قوله: فلو لتجارة كره) أي وإن لم يحضر السلعة، واختاره قاضي خان، ورجحه الزيلعي؛ لأنه منقطع إلى الله تعالى فلا ينبغي له أن يشتغل بأمور الدنيا، بحر".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201789

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں