بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایسے جانور کی قربانی کرنا جس کے ساتھ بد فعلی کی گئی ہو


سوال

اگر کسی جانور کیساتھ جماع کیا گیا تو قربانی جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب

جس جانور کے ساتھ بد فعلی کی گئی ہو، اس کے بارے میں اصل حکم  یہ ہے کہ اسے ذبح کرکے اس کا گوشت جلا دیا جائے،  اس کا گوشت کھانا مکروہ ہے، پس ایسے جانور کی قربانی بھی مکروہ ہوگی۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"جس جانور سے بدفعلی کی گئی ہو اس کی قربانی

 (سوال ٦٩) ایک شخص نے بڑے جانور (پاڈی) کے ساتھ صحبت کی، اور ایک شخص نے اس کی بدفعلی کوبھی دیکھا تو آیا کیا یہ مفعول جانور قربانی کے لئے جائز ہوگا یا نہیں؟ 

(الجواب) ایسے جانور کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ لہذا اس کی قربانی بھی مکروہ ہوگی۔ بہتر یہ ہے کہ ایسے جانور کو مالک ذبح کر کے جلا دے، تا کہ چرچا ختم ہو جائے، ورنہ جب بھی لوگ دیکھیں گے بات یاد آ جائے گی۔ "و تذبح البهيمة وتحرق على وجه الاستحباب ولا يحرم أكل لحمها،" (شامی ص: ١٥٤، ج: ۱، کتاب الطهارة، ابحاث الغسل) "وتذبح ثم يحرق ويكره الانتفاع بها حية ومية." (درمختار مع الشامي ص: ٢١٣، كتاب الحدود مطلب فى وطء الدابة، ج: ٣ )فقط والله اعلم بالصواب."

( کتاب الأضحية، ١٠ / ٥٠، ط: دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144412100138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں