بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک وضو سے پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم


سوال

بعض اوقات ایسا ہو تا ہے کہ میں صبح ڈیوٹی پر  آنے سے پہلے وضو کر لیتا ہو ں اور اس وضو سے ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھ لیتا ہوں، اس کے با وجود شام کی نماز کے لیے بھی میرا وضو قائم رہتا ہے ، پوچھنا یہ تھا کہ ایک وضو سے اگر وضو نہ ٹو ٹے، کیا پانچوں نمازیں پڑھنا درست ہے ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں ایک مرتبہ وضو کر لینے کے بعد جب تک وضو نہ ٹوٹے  نمازیں پڑھ سکتے ہیں ،البتہ بہتر اور افضل  یہ ہے کہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کیا جائے ۔

شرح مختصر الطحاوی میں ہے :

"مسألة: [يصلي المتطهر بطهوره ما شاء]

قال أبو جعفر: (وللمتطهر أن يصلي بطهوره ما لم يحدث ما شاء من الفرائض والنوافل)

وذلك لما روى علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح خمس صلوات بوضوء واحد".

ولأن الله تعالى قال: {إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم}، فإذا فعله فقد أدى موجب اللفظ، والتكرار غير مذكور في اللفظ: فلم نوجبه، لأن قوله: {إذا}: لا يقتضي التكرار".

(کتاب الطہارۃ،باب السواک وسنۃالوضوء،ج:1،ص:311،دارالبشائر الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں