بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک تولہ سونے پر زکات کا حکم


سوال

کیا ایک تولہ سونا پر زکوٰۃ ہے؟

جواب

اگر چاندی ، مال تجارت ، نقدی رقم وغیرہ ساتھ نہ ہو صرف ایک تولہ سونا ہو تو نصاب پورا نہ ہونے کی بناپر  زکات نہیں ،  ملکیت میں صرف سونا ہونے کی صورت میں زکات ساڑھے سات تولہ سونے میں واجب  ہوتی ہے۔

فتاوی قاضیخان میں ہے: 

"مال التجارة نوعان : أحدهما ما خلق ثمناً وهو الذهب والفضة وزكاة الذهب والفضة ونصابهما ما قال في الكتاب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروباً كان أو لم يكن مصوغاً كان أو غير مصوغ حلياً كان للرجال أو النساء عندنا تبراً كان أو سبيكة يعتبر في الذهب وزن المثاقيل وفي الدراهم وزن سبعة وتفسيره أن يزن كل عشرة منها سبع مثاقيل، وقيل في كل بلد يعتبر وزن ذلك البلد، وعن الشيخ الإمام أبي بكر محمد بن".

(قاضيخان للامام فخرالدين،كتاب الزكاة،فصل في مال التجارة، 1 / 220، ط: دار الكتب العلمية)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144509101217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں