بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کا حکم


سوال

کیا کل اثاثہ جات کی وصیت اپنی مرضی سے کی جا سکتی ہے؟ نقد،بنک سیونگ،گھر دکان،گاڑی،سونا،چاندی وغیرہ حتی کہ ضروریات زندگی کی استعمال کی گھریلو اشیاء وغیرہ میں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی مرضی سےکل اثاثہ جات( نقد،بنک سیونگ،گھر دکان،گاڑی،سونا،چاندی اور ضروریات زندگی کی استعمال کی گھریلو اشیاء وغیرہ) کی وصیت  کرنا درست ہے،تاہم کل اثاثہ جات کے ایک تہائی  میں وصیت کا نافذ کرنا وارثوں پر واجب ہوگا بشرطیکہ وصیت جائز امور میں صرف کرنے کی ہو، یعنی مثلاً اگر کفن دفن کے اخراجات، دیگر واجبی حقوق اور قرض کی ادائیگی کے بعد 9لاکھ روپے کی جائیداد وغیرہ بچتی ہے تو 3 لاکھ تک وصیت نافذ کرنا وارثین کے لیے ضروری ہےہوگا، ایک تہائی سے زیادہ (مذکورہ مثال میں بقایا 6 لاکھ میں )وصیت نافذ کرنے اور نہ کرنے میں وارثین کو اختیار ہوگا،اگر سب ورثاء عاقل بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے اس کو نافذ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، اور سب ورثاء عاقل بالغ نہ ہوں یا سب عاقل بالغ ہوں لیکن بعض راضی ہوں اور بعض راضی نہ ہوں تو جو عاقل بالغ وصیت نافذ کرنا چاہیں، ان کے حصے سے یہ وصیت نافذ کی جائے گی، نابالغ ورثاء یا غیر رضامند ورثاء کو ان کا حصہ پورا دیا جائے گا، لیکن اگر تمام ورثاء اس پر راضی نہ ہوں تو ایک تہائی مال میں وصیت کو نافذ کرنا ورثاء پر واجب ہو گا، وصیت بالکلیہ  باطل نہ ہو گی،اور بقیہ دو تہائی ورثاء میں بطورِ وراثت کے تقسیم ہوں گے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ‌ولا ‌تجوز ‌بما ‌زاد ‌على ‌الثلث ‌إلا ‌أن ‌يجيزه ‌الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

(كتاب الوصايا، الباب الأول، 90/6، ط: دار الفكر)

 وفي الموسوعة الفقهية الكويتية:

"الوصية للأجنبي بما زاد عن الثلث . 

23 - اختلف الفقهاء في الوصية بالزائد على الثلث للأجنبي على قولين :

القول الأول : إن الوصية للأجنبي في القدر الزائد على الثلث تصح وتنعقد ، ولكنها تكون موقوفة على إجازة الورثة ، فإن لم يكن له ورثة نفذت دون حاجة إلى إجازة أحد ، وهذا هو مذهب الحنفية".

(حرف العين، عقد، عقد موقوف، الوصية للأجنبي بما زاد عن الثلث، 30/ 254، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

"‌‌[الوصية غير واجبة]

الوصية محثوث عليها مرغب فيها غير مفروضة ولا واجبة لكنها مشروعة بالكتاب والسنة.................قال رحمه الله (الوصية غير واجبة) لأنها إثبات حق في مال بعقد كالهبة والعارية قوله (وهي مستحبة) أي للأجنبي دون الوارث.....قوله (‌ولا ‌تجوز ‌بما ‌زاد ‌على ‌الثلث ‌إلا ‌أن ‌يجيزه ‌الورثة)يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون فإن أجازه بعضهم ولم يجزه بعضهم جاز على المجيز بقدر حصته ويبطل في حق الراد ومعناه أنه يجعل في حق الذي أجاز كأنهم كلهم أجازوا وفي حق الذي لم يجز كأنهم كلهم لم يجيزوا بيانه إذا ترك ابنين وأوصى لرجل بنصف ماله فإن أجازت الورثة فالمال بينهم أرباعا للموصى له ربعان وهو النصف وللابنين ربعان وهو النصف وإن لم يجيزوا فللموصى له الثلث وللابنين الثلثان وإن أجاز أحدهما دون الآخر يجعل في حق الذي أجاز كأنهم كلهم أجازوا ويعطى للمجيز ربع المال وفي حق الذي لم يجز كأنهم كلهم لم يجيزوا ويعطى له ثلث المال ويكون الباقي للموصى له فيجعل المال على اثني عشر لحاجتنا إلى الثلث والربع فالربع للذي أجاز وهو ثلاثة والثلث للذي لم يجز وهو أربعة ويبقى خمسة للموصى له قال في الهداية ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته لأنها قبل ثبوت الحق إذ الحق يثبت عند الموت فكان لهم أن يردوه بعد وفاته بخلاف ما إذا أجازوها بعد الموت؛ لأنه بعد ثبوت الحق فليس لهم أن يرجعوا عليه لأن الساقط متلاش."

(كتاب الوصايا، الوصية للوارث، 287/6، ط: المطبعة الخيرية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100435

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں