بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک شخص کا کھانے کی چیز میں سور کی چربی کی ملاوٹ کا کہنے سے اس کے کھانے کا حکم


سوال

ہمارےمدرسہ میں ایک بیکری والاکیک لے کرآتاہے،اس کاکہناہےاس کیک میں سورکی چربی ملائی جاتی ہے،یہ عام کیک ہےجوہر ہوٹل میں دستیاب ہے ،لمباکیک ہوتاہے،جس کو چھری سےکاٹ کرایک پیس دس روپے کاملتاہے اوراس بیکری والےکاکہناہے کہ میں نےبھی اس میں پیسےلگائے     ہیں یعنی اس بیکری میں کیک بسکٹ وغیرہ کے کاروبار میں، کیااس ایک بندےکےکہنےسےکیک حرام ہوگا یا اس کےکھانےکی اجازت ہوگی؟

جواب

صورت مسؤلہ میں  اگر   مذکورہ کیک میں سور کی چربی کا  ملانا تحقیق سے ثابت نہیں ،تو محض افواہوں سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔اوراگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس کیک میں سور کی چربی ڈالی جاتی ہےاور چربی کی حقیقت وماہیت کو کسی کیمیاوی عمل کے ذریعہ تبدیل بھی نہیں کیاجاتا   تو اس کا کھانا ناجائز وحرام ہے،اوراگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس کیک میں سور کی چربی نہیں  ڈالی جاتی یاڈالی جاتی ہے  لیکن  چربی کی حقیقت وماہیت کو کسی کیمیاوی عمل کے ذریعہ تبدیل کیاجاتاہے   تو اس کا کھانا جائز ہے۔

کیک اوردیگر کھانے،پینے کی اشیاءکے بارے میں کم از کم دو مسلمان و قابل اعتماد اور ماہر وتجربہ کار ڈاکٹروں کے ذریعہ تحقیق کی جائے گی کہ واقعتاً ان میں خنزیر کی چربی شامل کی گئی ہے یا نہیں؟ اور ڈاکٹر حضرات یہ تحقیق لیباریٹری کے ذریعہ کریں گے۔ اگر صحیح ومعتبر تحقیق کے نتیجہ میں یہ ثابت ہوجائے کہ ان میں خنزیر کی چربی ملائی گئی ہے اور چربی کی حقیقت وماہیت کو کسی کیمیاوی عمل کے ذریعہ تبدیل بھی نہیں کیاگیاتو ایسی اشیا کا کھانا حرام ہوگا ورنہ نہیں۔

 اور جب تک تحقیق نہ ہوسکے تو آدمی ذاتی طور پر تو احتیاط کرسکتا ہے؛ لیکن ناجائزکا فتوی نہیں دیا جاسکتا، نیز لوگوں کو عمومی طور پر منع بھی نہیں کیا جاسکتا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يطهر (زيت) تنجس (بجعله صابونا) به يفتى للبلوى. 

(قوله: ويطهر زيت إلخ) قد ذكر هذه المسألة العلامة قاسم في فتاواه، وكذا ما سيأتي متنا وشرحها من مسائل التطهير بانقلاب العين، وذكر الأدلة على ذلك بما لا مزيد عليه، وحقق ودقق كما هو دأبه - رحمه الله تعالى -، فليراجع.
ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ خلافا لأبي يوسف كما في شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ".

(الدر المختار مع حاشية رد المحتار،کتاب الطھارۃ،باب الانجاس (1/ 315)ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144312100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں