بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ہندوستان کے ایک سنگ تراش کے واقعہ کی تحقیق


سوال

 ہندوستان کی ریاست کتیانہ جونا گڑھ  میں ایک سنگ تراش رہتا تھا جو حضور نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم کا دیوانہ تھا، درودشریف سے اسے محبت تھی،  کام کے دوران بھی وہ درودشریف پڑھتا رہتا تھا، درودشریف کی مشہور کتاب دلائل الخیرات اسے زبانی یاد تھی ، اس کا ایک معمول تھا  کہ جب بھی کوئی پتھر تراشتا تو اس کا ایک باب پڑھتا، ایک دفعہ حج کے موسم میں قافلے مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں تھے تو اس کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، ایک  رات جب سویا تو دل کی آنکھیں کھل گئیں، کیا دیکھتا ہے کہ مدینہ منورہ میں حاضر ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جلوہ فرما ہیں،  سبز گنبد کے انوار سے فضا منور ہو رہی ہے، اور مسجد نبوی صلي اللہ علیہ وسلم کے مینار بھی نور برسا رہے ہیں، مگر ایک مینار کا کنگرہ شکستہ تھا۔ اتنےمیں حضور نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم کےلب مبارک کو جنبش ہوئی، اور الفاظ یوں ترتیب پائے دیوانے وہ دیکھو، ہماری مسجد کے مینار کا ایک کنگرہ ٹوٹ گیا ہے، تم ہمارے مدینہ منورہ میں آؤ اور اس کنگرے کو ازسرنو بنا دو،جب اس سنگ تراش کی آنکھ کھلی تو کانوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم کے ادا کئے ہوئے کلمات گونج رہے تھے، مدینے کا بُلاوا آ چکا تھا،مگر سنگ تراش کی آنکھوں میں یہ سوچ کر آنسو آئے کہ میں تو بہت غریب ہوں، میرے پاس مدینہ منورہ جانے کے وسائل کہاں ہیں، لیکن عشق نے ہمت دی، آرزو نے دلاسہ دیا کہ تمہیں تو خود حضور نبی کریم صلی علیہ وسلم نےبلایا ہے، تم وسائل کی فکر کیوں کرتے ہو، چنانچہ دیوانے نے رخت سفر باندھا، اوزار کا تھیلا کندھےپر چڑھایا اور پور بندر کی بندرگاہ کی طرف چل پڑا، ادھر پور بندر کی بندرگاہ پر سفینہ مدینہ تیار کھڑا تھا، مسافر پورے ہو چکے تھے، مگر عجیب تماشا تھا کہ کپتان کی کوشش کے باوجود سفینہ چلنے کا نام نہ لیتا تھا،اتنے میں جہاز میں سے کسی کی نظر دور سے جھومتے ہوئےآتے دیوانے پر پڑی، لوگ سمجھے کہ شاید ایک مسافر رہ گیا تھا ، جہاز گہرے پانی میں کھڑا تھا،دیوانے کو لینے کے لیے ایک کشتی آئی،  دیوانہ اس کشتی کے ذریعے جہاز میں سوار ہو گیا، اس کے سوار ہوتے ہی جہاز جھومتا ہوا مدینے چل پڑا، نہ اس سے کسی نے ٹکٹ مانگا، نہ اس کے پاس تھا، بالآخر دیوانہ مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ اب دیوانہ جھومتا ہوا روضہ رسول صلي اللہ علیہ وسلم  کی طرف چلا جا رہا تھا، کچھ خدام حرم کی نظر دیوانے پر پڑی تو پکار اٹھے، ارے یہ تو وہی ہے جس کا حلیہ ہمیں دکھایا گیا ہے،دیوانے نے اشکبار آنکھوں سے سنہری جالیوں پر حاضری دی، پھر باہر آ کر خواب میں جو جگہ دکھائی گئی تھی، اس کو دیکھا تو واقعی ایک کنگرہ شکستہ تھا، اپنی  کمر میں رسی بندھوا کر خدام کی مدد سے دیوانہ گھٹنوں کے بل اوپر چڑھا، اگر حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کا حکم نہ ہوتا تو عاشق گنبد و مینار پر جانے کی جرأت تو کجا ایسا کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتا،اور حسب ارشاد کنگرہ ازسرنو بنا دیا، واہ رے دیوانے !دیوانے کی خوش بختی جب دیوانے کی بے تاب روح نے سبز گنبد کا قرب پایا تو بے قراری اور اضطراب بے حد بڑھ گیا، دیوانہ کام مکمل کر چکا تھا اور اب اسے نیچے آنا تھا، لیکن اس کی روح مضطر نے لوٹنے سے انکار کر دیا، جب دیوانے کا وجود نیچے آیا تو دیکھنے والوں کے کلیجے پھٹ گئے کیوں کہ دیوانے کی روح تو کبھی کی سبز گنبد کی رعنائیوں پر نثار ہو چکی تھی ، دیوانہ دم توڑ چکا تھا۔

اس واقعے کی تصدیق مطلوب ہے۔  

جواب

تلاش بسیار کے باوجود ہمیں ایسا کوئی واقعہ  کسی معتبر کتاب میں نہیں ملا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200824

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں