بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایک مشت ڈاڑھی کی پیمائش کا کیا طریقہ ہے؟


سوال

داڑھی کی شرعی مقدار تو ایک مشت ہے۔ مگر  ایک مشت مقدار  کیسے اور کہاں سے ناپی جائے گی؟  بعض کے نزدیک ہونٹوں کے بالکل نیچے جہاں بچہ ریش ہوتی ہے  وہاں سے پیمائش کی جائے اگر داڑھی مکمل اور گھنی ہے  تو ایسا کرنے کی صورت میں تو تھوڑی کے نیچے دو انگل مقدار ہی داڑھی آتی ہے۔  چند علماء اور ائمہ کو بھی اسی حالت میں دیکھا گیا ہے۔ نیز ائمہ حرم کی داڑھی کی مقدار اسی بیان کردہ تناسب سے نظر آتی ہے۔ رہنمائی فرمایئے!

جواب

ایک  مشت  داڑھی  رکھنا  شرعًا واجب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اطراف کے بال ایک  مشت ہوں، یعنی  ہر بال  کی  جڑ  سے اس کی لمبائی ایک مشت بنتی ہو، پس بالوں کی پیمائش میں جلد شامل نہ ہوگی، نہ ہی ریش بچہ مع تھوڑی پیمائش میں شامل ہوگی، بلکہ تھوڑی کے نیچے کے بالوں کی پیمائش بالوں کی جڑ سے اس طور پر ہوگی کہ ہر طرف کے بال کی جڑ سے ایک مٹھی یعنی عرضاً چار انگل داڑھی  باقی رکھی جائے، اس سے زائد بال کاٹے جا سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ شریعت میں جو دلائل حجت تسلیم کیے گئے ہیں، وہ متعین ہیں اور  اصولِ فقہ میں بیان کردیے گئے ہیں؛ لہٰذا اگر آج کے دور میں کسی عالم کا عمل  منصوص حکم کے مطابق نہیں ہے تو اس کا عمل حجت نہیں ہے، بلکہ دلیل وہی ہے جو نصوص میں وارد ہوچکی ہے۔

شرح مسند أبي حنيفة لعلي القاري میں ہے:

"المستحب في اللحية، قدر القبضة

وبه (عن الهيثم، عن رجل، أن أبا قحافة) بضم قاف، وخفة مهملة، ثم فاء، فهاء، وهو عثمان بن عامر، والد الصديق الأكبر القرشي التيمي الملكي، أسلم يوم الفتح، وعاش إلى خلافة عمر، ومات سنة أربع عشرة، وله تسع وتسعون سنة، روى عنه الصديق وأسماء بنت أبي بكر (أتى النبي صلى الله عليه وسلم ولحيته قد انتشرت) أي باعتبار كثرة شعرها (قال) أي الراوي (فقال) يعني النبي صلى الله عليه وسلم (لو أخذتم) أي لو أخذ بعضكم أيها الصحابة، لكان حسناً، و لو للتمني، و لايحتاج إلى جواب (وأشار) أي النبي صلى الله عليه وسلم (بيده إلى نواحي لحيته) فالإشارة قامت مقام العبارة.

فالتقدير: لو أخذتم نواحي لحيته طولاً وعرضاً، وتركتم قدر المستحب، و هو مقدار القبضة، و هي الحد المتوسط بين الطرفين المذمومين من إرسالهما مطلقاً، و من حلقها وقصها على وجه استئصالها، و في حديث الترمذي، عن ابن عمر، أنه عليه الصلاة والسلام كان يأخذ من لحيته، من عرضها و طولها."

( ذكر إسناده عن الهيثم بن حبيب الصرفي، ١ / ٤٢٣ - ٤٢٤، ط:  دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200371

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں