بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حضرت عائشہ کو حضور علیہ السلام کے سامنے اونچی آواز سے بات کرنے پر تنبیہ کرنے کے واقعہ کی تحقیق


سوال

ایک مرتبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کسی بات پر گفتگو کر رہی تھیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ وہاں پہنچ گئے،  تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہم تمہیں ثالث بنا لیتے ہیں ۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بات سننے لگے، حضرت عائشہؓ غصہ میں تھیں تو ناز سے اپنے شوہرنبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے کہہ دیا : "دیکھیں سچ سچ بات کیجیے گا۔ ” جب انہوں نے یہ بات کہی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کو تھپڑمارا ،اور فرمایا: تم اللہ کے محبوب کو کہہ رہی ہو کہ سچ سچ کہنا۔ اللہ کی بندی! وہ سچ نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے غصہ سے جان بچانے کے لیے محبوب شوہر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے ہو گئیں۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہم نے تمہیں ثالث بنایا تھا، ہم تم سے یہ نہیں چاہتے تھے۔ پھر فرمایا: آپ بیشک جائیں ہم آپس میں فیصلہ کر لیں گے۔ صدیق اکبرؓ واپس ہو گئے، تو نبی کریم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مسکرا کے دیکھا اور فرمایا: دیکھا! باپ نے تھپڑ لگایا تو جان میرے پیچھے ہی چھپ کر بچی۔ 

اس روایت کے متعلق   تحقیق درکار ہے۔

جواب

مذكوره قصہ  أبو عمر ابن حيویہ الخزاز رحمہ اللہ (المتوفى: 382ھـ) نے اپنی  سند سے نقل کیا ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

"أَخْبَرَنَا أَبُو اللَّيْثِ نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ نَصْرٍ الْفَرَائِضِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخُشُوعِيُّ، سَنَةَ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلامٌ، فَقَالَ لَهَا: «مَنْ تَرْضَيْنَ بَيْنِي وَبَيْنَكِ؟ أَتَرْضَيْنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ؟» قَالَتْ: لا أَرْضَاهُ؛ عُمَرُ غَلِيظٌ، فَقَالَ:«أَتَرْضَيْنَ بِأَبِيكِ بَيْنِي وَبَيْنِكِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ.قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ، فَقَالَ: «وَإِنَّ هَذِهِ مِنْ أَمْرِهَا كَذَا، وَمِنْ أَمْرِهَا كَذَا».قَالَتْ: قُلْتُ: اتَّقِ اللَّهَ، وَلا تَقُلْ إِلا حَقًّا.قَالَتْ: فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ، فَرَثَمَ بِهِ أَنْفَهَا، وَقَالَ: أَنْتِ لا أُمَّ لَكِ، يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ تَقُولِينَ الْحَقَّ وَأَبُوكِ، وَلَا يَقُولُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! قَالَتْ: فَابْتَدَرَتْ مِنْخَرَاهَا كَأَنَّهَا غَزْلا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «الْبَيْتَ».وَجَعَلَ يَضْرِبُهَا بِهَا، فَقَامَتْ هَارِبَةً مِنْهُ، فَلَزِقَتْ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: حَتَّى قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ، لَمَّا خَرَجْتَ، فَإِنَّا لَمْ نَدْعُكَ لِهَذَا».فَلَمَّا خَرَجَ قَامَتْ فَتَنَحَّتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا: «ادْنُ مِنِّي».فَأَبَتْ أَنْ تَفْعَلَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: «لَقَدْ كُنْتِ قَبْلَ هَذَا شَدِيدَةَ اللُّزُوقِ بِظَهْرِي». "

البتہ سوال میں مذکور’’اورفرمایا: دیکھا! باپ نے تھپڑ لگایا تو جان میرے پیچھے ہی چھپ کر بچی‘‘یہ حصہ  اس روایت میں مذکور  نہیں ہے  ۔ 

ابن حیویہ رحمہ اللہ (المتوفى: 382ھـ)کی مذکورہ سند  پر کلام:

ابن حیویہ رحمہ اللہ کی مذکورہ سند میں    یہاں نسخہ میں کچھ  سقط (یعنی کہ کچھ حصہ سند کا بیان ہونے سے رہ گیا ہے) واقع  ہوا ہے،جو کہ  ابن عدی رحمہ اللہ (المتوفي:365 ھا) کے  ہاں مکمل طور پر نقل ہوئی   ہے۔

(الكامل في الضعفاء، من اسمه محمد، (9/ 244) برقم (15222)، ط/ مكتبة الرشد- الرياض)

حکمِ حدیث:

ابن عدی رحمہ اللہ کی نقل کے مطابق روایت میں موجود’’محمد بن زبیر حنظلی‘‘کو محدثین رحمہم اللہ کی جانب سے ضعیف، منکر الحدیث، غیر معتمد،  قلیل الحدیث اور اس میں بھی  غرائب  بیان کرنے والا ،  شعبہ جیسے محدّث جن سے راضی نہ ہوں ، وغیرہ قرار دیا گیا ہے، محدثینِ کرام  کی تصریحات بقلم ابن حجر رحمه الله (المتوفى: 852ھ) ملاحظہ فرمائیں : 

" قال اسحاق بن منصور عن ابن معين: ضعيف لا شيء.

وقال أبو حاتم: ليس بالقوي، في حديثه إنكار. وقال البخاري: منكر الحديث، وفيه نظر.

وقال النسائي: ضعيف، وقال في موضع آخر: ليس بثقة. 

وقال ابن عدي: بصري، كوفي الأصل، قليل الحديث، والذي يرويه غرائب وأفراد.

قلتُ: وقال الساجي: كان شعبة لا يرضاه، وأسند ابن عدي من طريق أبي داود الطيالسي قلتُ: لشعبة مالك لا تحدث عن محمد بن الزبير؟ فقال: مرَّ به رجلٌ، فافترى عليه، فقلت له، فقال: إنه أغاظني."

(تهذيب التهذيب، حرف الميم، (9/ 147) رقم الترجمة (247)، ط/ دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع) 

ابن حیویہ رحمہ اللہ(المتوفى: 382ھـ)  كي ذكر كرده روايت كے ہم معنی روایات : 

(1) خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی روایت : 

اسی روایت کے ہم معنی روایت د وسرے الفاظ میں خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفى: 463ھ)  نے ’’ عُمَر بْن عَبْد العزيز بْن مُحَمَّد بْن دينار أَبُو القاسم الفارسي البزاز‘‘ کے تذکرے میں انہی کے توسط سے  اپنی سند کے ساتھ نقل فرمائی ہے،  ان کی عبارت بمع سند پیشِ خدمت ہے: 

"أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رِزْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ إِمْلاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي؛ أَبُو الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلامٌ، فَقَالَ: بِمَنْ تَرْضِينَ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَكِ؟ أَتَرْضِينَ بِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ؟، قُلْتُ: لا، ذَاكَ رَجُلٌ لَيِّنٌ يَقْضِي لَكَ عَلَيَّ، قَالَ: أَفَتَرْضِينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟، قُلْتُ: لا، إِنِّي لأَفْرَقُ مِنْ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالشَّيْطَانُ يَفْرَقُهُ، فَقَالَ: أَتَرْضِينَ بِأَبِي بَكْرٍ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَجَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذِهِ، قَالَ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: اقْصِدْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ، فَلَطَمَ وَجْهِي لَطْمَةً بَدَرَ مِنْهَا أَنْفِي وَمِنْخَرَايَ دَمًا، وَقَالَ: لا أُمَّ لَكِ، فَمَنْ يَقْصِدُ إِذَا لَمْ يَقْصِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَرَدْنَا هَذَا، وَقَامَ فَغَسَلَ الدَّمَ عَنْ وَجْهِي وَثَوْبِي بِيَدِهِ. " 

(تاريخ بغداد، ذكر من اسمه عمر، (13/ 94) رقم  الترجمة (5938)، ط/ دار الغرب الإسلامي- بيروت)

(2) سیوطی رحمہ اللہ کی  بحوالہ ’’الفردوس للدیلمی ‘‘ ذکر کردہ مختصر  روایت:

اسی مضمون پر مشتمل مختصر روایت علامہ سیوطی  رحمہ اللہ  (المتوفي :911 ھـ)نے بھی بحوالہ ’’  الفردوس للدیلمی ‘‘ نقل فرمائی ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں : 

" عن عائشة: أنها خاصمت النبي - صلى الله عليه وسلم - إلى أبي بكر فقالت: يا رسول الله! اقصد، فلطم أبو بكر خدّها، وقال: تقولين لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - اقصد، وجعل الدم يسيل من أنفها على ثيابها، ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - يغسل الدم من ثيابها بيده، ويقول: إنا لم نرد هذا، إنا لم نرد هذا. الديلمي. "

(جمع الجوامع، مسند عائشة رضي الله عنها، (23/ 366) برقم (673)، ط/ الأزهر الشريف، القاهرة - جمهورية مصر العربية)

دیلمی کی روایت  بمع سند ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفي:852ھ)نے ’’الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس‘‘ میں ذکر كي ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں :

" قال: أخبرنا أبي، عن علي بن عبد الحميد البجلي، عن أبي بكر بن لال، عن أبي الحسن القطان، عن جعفر بن أبي عثمان الطيالسي، عن إسماعيل بن إبراهيم المنقري، عن أبيه، عن مبارك بن فضالة، عن عبيد الله بن عمر، عن القاسم، عن عائشة قال: تخاصم النبي صلى الله عليه وسلم وعائشة إلى أبي بكر، فقالت عائشة: يا رسول الله! اقصد، فلطم أبو بكر خدّها، وقال: تقولين لرسول الله صلى الله عليه وسلم اقصد ؟ وجعل الدم يسيل على ثيابها، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل الدم من ثيابها بيده، ويقول: إنا لم نرد هذا، إنا لم نرد هذا. " 

(الغرائب الملتقطة، من حرف الألف فصل إنما، (3/ 113 و114) برقم (935)، ط/ جمعية دار البر، الإمارات العربية المتحدة، دبئي، 1439ه) 

(3)ابن عساکر رحمہ اللہ کی روایت : 

نيز ابن عساکر رحمہ اللہ(المتوفى: 571ھ)  نےبھی  اپنی سند سے    اس روایت کو نقل فرمایا ہے، ان کی عبارت بمع سند ملاحظہ فرمائیں :  

" أخبرنا أبو بكر المزرفي نا أبو الحسين محمد بن علي بن محمد أنا أبو القاسم عبيد الله بن أحمد بن علي الصيدلاني نا محمد بن مخلد العطار نا جعفر بن أبي عثمان الطيالسي نا إسماعيل بن إبراهيم أبو بشر صاحب القوهي قال سمعت أبي قال حدثنا المبارك بن فضالة عن عبيد الله بن عمر عن القاسم عن عائشة قالت: كان بيني وبين رسول الله (صلى الله عليه وسلم) كلام، فقال: من ترضين أن يكون بيني وبينك؟ أترضين بأبي عبيدة بن الجراح؟ قلت: لا! ذلك رجل هين، لين، يقضي لك، قال: فترضين بأبيك؟ قال: فأرسل إلى أبي بكر، فجاء، فقال: اقصصي، قالت: قلت: اقصص أنت، فقال: هي كذا وكذا، قالت: فقلت: أقصد، فرفع أبو بكر يده، فلطمني، قال: تقولين يا بنت فلانة لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) أقصد، من يقصد إذا لم يقصد رسول الله (صلى الله عليه وسلم)؟ قال: وجعل الدم يسيل من أنفها على ثيابها، فقال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): إنا لم نرد هذا، قال: وجعل رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يغسل الدم بيده من ثيابها، ويقول: رأيت كيف أنقذتك منه؟. "

(تاریخ دمشق، حرف العين، (30/ 215)، ط/ دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)

ابن عساکر کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ   سوال میں مذکور الفاظ ’’اور فرمایا: دیکھا! باپ نے تھپڑ لگایا تو جان میرے پیچھے ہی چھپ کر بچی‘‘     کے مفہوم کو  بظاہر اس روایت میں مذکور جملے  ’’رأيت كيف أنقذتك منه؟ ‘‘(یعنی  آپ نے دیکھا کہ میں نے کیسے آپ کو آپ کے والد سے بچایا ؟) سے  اخذ کیا گیا ہے۔

ابن عساکر رحمہ اللہ کے حوالہ سے مذکورہ روایت کو نقل کرنے والے حضرات : 

ابن عساکر رحمہ اللہ کے حوالہ سے پھر درج ذیل حضرات نے اس روایت کو نقل فرمایا ہے: 

(1) أخرجه محب الدين الطبري (المتوفى: 694ه) في السمط الثمين، ذكر استرضائه عائشة رضي الله عنها واعتذاره منها في بعض الأحوال، (ص: 73 و74)، ط/ دار الحديث مصر. 

(2) ومحمد بن يوسف الصالحي الشامي (المتوفى: 942هـ) في سبل الهدى والرشاد، الباب الثالث في بعض مناقب أم المؤمنين عائشة بنت أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عنهما ، (11/ 173)، ط/ دار الكتب العلمية بيروت - لبنان.

(3) وعبد الملك بن حسين الشافعي (المتوفى: 1111ه) في سُمط النجوم العوالي، (1/ 445)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت.

تنبیہ:

لیکن ان حضرات نے مذکورہ روایت کوبحوالہ ابن عساکر رحمہ اللہ جن الفاظ میں نقل فرمایا ہے، وہ  الفاظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی روایت کے زیادہ قریب ہیں بمقابلہ ابن عساکر رحمہ اللہ کی روایت کے ۔ 

مذکورہ تینوں ہم معنی روایات میں  راوی  ’’مبارك بن فضالة‘‘ مدلس ہونے کے باعث روایت کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے: 

مذکورہ تینوں سندوں میں دیکھا جاسکتا ہے  کہ راوی  ’’مبارك بن فضالة‘‘ پر خطیب  بغدادی ، دیلمی اور  ابن عساکر رحمہم اللہ تینوں    جمع ہوگئے ہیں ۔

’’  الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس‘‘ کے محققین نے اس روایت پر  کلام کرتے ہوئے حاشیہ میں لکھا ہے  کہ يه روايت ضعیف ہے ،  کیونکہ ابن عدی نےالکامل میں ،  خطیب نے تاریخ بغداد میں ، اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس روایت کو   مبارک بن فضالۃ کے طریق سے نقل کیا ہے، جب کہ وہ تدلیس تسویہ میں مشہور بھی ہیں ، اور کسی جگہ بھی ان سے صراحتا سماع کی تصریح نہیں، ان  کی عبارت  ملاحظہ فرمائیے: 

"ضعيف، أخرجه ابن عدي في الكامل في الضعفاء (4/66)، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد (11/239)، وابن عساكر في تاريخ دمشق (44/81 و30/215)، كلهم من طريق مبارك بن فضالة به، وهو معروف بتدليس التسوية، ولم يصرح بالتحديث في جميع الطبقات." 

(الغرائب الملتقطة، من حرف الألف فصل إنما، (3/ 114) رقم الهامش (4)، ط/ جمعية دار البر، الإمارات العربية المتحدة، دبئي، 1439ه)

بعض  محققین کی صراحت سے معلوم ہوا کہ راوی  ’’مبارك بن فضالة‘‘  تدلیس تسویہ کرتے ہیں اور ان سے کسی بھی جگہ صراحتا سماع کا ذکر نہیں، جبکہ درحقیقت راوی  ’’مبارك بن فضالة‘‘سے  خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی مذکورہ روایت میں  سماع کی  صراحتحَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ کے الفاظ میں موجود ہے، لہذا اس بنیاد پرصدوق راوی کی روایت  کو ضعیف قرا ر دینا درست نہیں۔

مذکورہ مضمون سے متعلق صحیح حدیث : 

نیز مذکورہ مضمون سے متعلق صحیح روایت بھی کئی کتب حدیث میں وارد ہوئی ہے،مختصرا امام ابو داود رحمه الله (المتوفى: 275ھـ )کی ’’سنن ‘‘ سے متنِ حدیث ملاحظہ فرمائیے :

"عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا، وَقَالَ: أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْجِزُهُ، وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ «كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟» قَالَ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا، فَقَالَ لَهُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا."

ترجمہ: "نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے  ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بلند آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں پکڑا طمانچہ مارنے کے لیے،اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر چلے گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھا آپ نے میں نے آ پ کو  کیسےاس شخص سےبچایا“ پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رُکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جیسے کہ مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا۔"

(سنن أبي دواد، باب ما جاء في المزاح، (4/ 300) برقم (4999)، ط/ المكتبة العصرية- بيروت)

تخریج: 

(1) أخرجه أحمد (المتوفى:241هـ) في مسنده (30/ 341) برقم (18394)، ط/ مؤسسة الرسالة.

(2) والنسائي (المتوفى: 303هـ) في السنن الكبرى (7/ 44) برقم (8441)، و(8/ 256) برقم (9110)، ط/ مؤسسة الرسالة - بيروت. 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ   متعدد روایات کی روشنی میں مجموعی طور پر اس واقعہ کے  مضمون کو بیان کرنا درست ہے ۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144204200484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں