بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مریض لیٹ کر نماز کس طرح پڑھے گا؟


سوال

 مریض لیٹ کر نماز کس طرح پڑھے گا ؟

جواب

مریض کی نماز  پڑھنے کے تین طریقے ہیں:

(1) اگرمریض کھڑے ہوکر رکوع و سجدہ کے ساتھ نماز ادا نہ کرسکے تو بیٹھ کر رکوع سجدے کے ساتھ ادا کرے۔

(2) اگر بیٹھ کر رکوع سجدہ نہیں کرسکتا، لیکن بیٹھ کر رکوع و سجدہ اشارے سے کرسکتاہے تو قبلہ رخ بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجدہ اشارے سے کرے، سجدے کا اشارہ رکوع کے مقابلے میں زیادہ کرے۔

( 3)اور  اگر بیٹھ کر رکوع سجدہ اشارے سے بھی نہ کرسکے تو لیٹ کر اشارہ سے  نماز پڑھے، پھر لیٹ کر نماز پڑھنے کے درج ذیل تین طریقے ہیں۔

(1) چت لیٹ کر دونوں پیر قبلہ کی طرف کرے، اگر بسہولت ہو سکے تو دونوں گھٹنوں کو کھڑا کرے اور سر کے نیچے تکیہ رکھ لے ،تا کہ اشارہ کرنا سہل ہو جائے، پھر تکبیر تحریمہ کہہ کر دونوں ہاتھ باندھ لے اور رکوع و سجدہ سر کے اشارے سے ادا کرے، رکوع کے لئے جتنا سر اٹھایا ہے ،اس سے زیادہ سجدے کے لئے اٹھائے،تکیہ  رکھنے میں یا پیر موڑنے میں تکلیف ہو تو ترک کردے۔(2)  داہنی یا بائیں کروٹ پر اس طرح سے  لیٹے  کہ چہرہ قبلے کی طرف ہو جائے۔(3)اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر جیسے بھی اشارہ ممکن   ہو ،وہ کیفیت اختیار کرکے نماز پڑھے۔

فتاوی قاضی خان میں  ہے:

" صلاة المريض ما يستطيع لقوله ﷺ لعمران بن حصين رضي الله تعالى عنه : صلى قائماً فإن لم تستطع فقاعداً، فإن لم تستطع فعلى الجنب تومىء إيماء. فينظر إن قدر على القيام والركوع والسجود يصلي قائماً بركوع وسجود لا يجزيه إلا ذلك، وإن عجز عن القيام وقدر على الركوع والسجود يصلي قاعداً بركوع وسجود لا يجزيه إلا ذلك، وإن عجز عن الركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعداً بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، وكذا لو عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام يصلي قاعداً بإيماء لأن القيام وسيلة إلى السجود، فإذا سقط المقصود سقطت الوسيلة."

( کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، 153/1، ط: دار الکتب العلمیة ، بیروت)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

" الأصل من هذا الباب أن المريض إذا قدر على الصلاة قائما بركوع وسجود، فانه يصلى المكتوبة قائما بركوع وسجود فلا يجزيه غير ذلك،وإن عجز عن القيام وقدر على القعود فانه يصلى المكتوبة قاعدا بركوع وسجود ،ولا يجزيه غير ذلك.

فان عجز عن الركوع والسجود وقدر على القعود، فانه يصلى قاعدا بايماء، ويجعل السجود أخفض من الركوع، فان عجز عن القعود صلى مستلقيا على ظهره، فان لم يقدر إلا مضطجعا استقبل القبلة وصلى مضطجعا يؤمى بإيماء."

(کتاب الصلاۃ،الفصل الحادی والثلاثون فی صلاۃ المریض، 667/2، ط: مکتبہ زکریا بدیوبند ،الھند)

النتف فی الفتاوی میں ہے:

" وأما صلاة المريض فإنها على ثلاثة أوجه :

 فإن المريض يصلي قائماً يركع ويسجد، فإن لم يستطع فقاعداً، فإن لم يستطع فعلی جنبه، فإن لم يستطع فقد سقطت عنه الصلاة في قول الفقهاء وأبي عبد الله . "

( کتاب الصلاۃ،صلاۃ المریض، 79/1، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

" (قوله ‌وإن ‌تعذر ‌القعود أومأ مستلقيا أو على جنبه) لأن الطاعة بحسب الاستطاعة والتخير بين الاستلقاء على القفا والاضطجاع على الجنب جواب الكتب المشهورة كالهداية وشروحها وفي القنية مريض اضطجع على جنبه وصلى وهو قادر على الاستلقاء قيل يجوز والأظهر أنه لا يجوز ‌وإن ‌تعذر الاستلقاء يضطجع على شقه الأيمن أو الأيسر ووجهه إلى القبلة ."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض،123/2، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

" (وإن تعذر القعود) ولو حكما (أومأ مستلقيا) على ظهره (ورجلاه نحو القبلة) غير أنه ينصب ركبتيه لكراهة مد الرجل إلى القبلة ويرفع رأسه يسيرا ليصير وجهه إليها (أو على جنبه الأيمن) أو الأيسر ووجهه إليها (والأول أفضل) على المعتمد ." 

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، 99/2، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101980

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں