بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں ایک سے زائد جمعہ کی جماعتیں کرانے کا حکم


سوال

ایک مسجد میں ایک سے زائد جمعہ کی نماز قائم کی جاسکتی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں ایسی مسجد میں ایک نماز  کی  دو جماعتیں کرانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے جس میں امام و مؤذن مقرر ہو اور اس کے مخصوص نمازی بھی ہوں، صحابہ کا معمول بھی یہ ہی تھا کہ جب مسجد میں آتے اور  وہاں نماز ہوچکی ہوتی تو بعض دوسری مسجد کی جماعت میں شامل ہوتے اور بعض انفرادی نماز ادا کرتے تھے، اسی مسجد میں دوسری جماعت نہیں کراتے تھے،  ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو فریقوں کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے تھے، واپس تشریف لائے تو جماعت ہوچکی تھی، آپ نے گھر والوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز ادا فرمائی، اگر فرض نماز کی دوسری جماعت مسجد میں بلاکراہت درست ہوتی تو رسول اللہ ﷺ خود بیانِ جواز کے لیے وہاں جماعت فرماتے، اسی بنا پر  فقہاء  ایک مسجد میں دوسری جماعت کرانے کی اجازت نہیں دیتے۔

بہرحال اگر کسی کی ایک جگہ جماعت نکل جائے تو اسے چاہیے کہ دوسری مساجد میں جا کر جماعت کی فضیلت حاصل کرے۔  یا عام نماز ہو تو گھر والوں کو جمع کرکے نماز باجماعت ادا کرلے، یا انفرادی نماز پڑھ  لے، اور اگر جمعے کی نماز ہو  اور دوسری مسجد میں جماعت نہ مل سکے اور امام کے علاوہ تین مقتدی بھی جمع نہ ہوں تو انفرادی طور پر ظہر کی نماز ادا کرلے۔

لہذا ایک مسجد میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز کے قیام کے بعد دوسری مرتبہ اُسی مسجد میں جمعہ قائم کرنا مکروہ ہو گا، اگر ایک مسجد میں دو مرتبہ جمعہ کی نماز کے قیام کا باعث یہ ہو کہ ایک مرتبہ مسجد میں تمام افراد نہ سما سکتے ہوں تو اس کی یہ صورت بھی اختیار کی جا سکتی ہے کہ مسجد کے علاوہ کسی بڑے اور کھلے میدان میں جمعہ کی نماز ادا کر لی جائے؛ تا کہ تمام افراد ایک ساتھ جمعہ کی نماز ادا کر سکیں؛ کیوں کہ جمعہ کی نماز قائم کرنے کے لیے مسجد کی شرط نہیں، بلکہ کسی بھی جگہ جمعہ کی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

’’عن الحسن قال: کان أصحاب رسول الله ﷺ  إذا دخلوا المسجد، وقد صلي فیه، صلوافرادی‘‘. (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الصلاة، باب من قال: یصلون فرادی، ولایجمعون. مؤسسة علوم القرآن جدید ۵/۵۵، رقم:۷۱۸۸)

ترجمہ: حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام جب مسجد میں آتے کہ وہاں نماز ہوچکی ہوتی تو وہ انفرادی نماز ادا کرتے تھے۔

"ولنا أنه علیه الصلاة والسلام کان خرج لیصلح بین قوم، فعاد إلی المسجد وقد صلی أهل المسجد، فرجع إلی منزله فجمع أهله وصلی". ( ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ج۱ ص۸ ۵۱ ۔ط:س ۔ج۱ص۵۵۳۔۱۲)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’نماز جمعہ کسی بھی طرح(چاہے مالی نقصان برداشت کرنا پڑے)اس کی اصل جگہ یعنی مسجد میں اور اگر یہ نہ ہوسکے توعبادت خانہ میں جم غفیرکے ساتھ ادا کرے ، اگر وہاں کبھی کبھار پہنچ نہ سکے توایک امام اور کم از کم تین مقتدیوں کے ساتھ کسی اور جگہ یا کارخانہ میں باجماعت ادا کرے، جہاں امام اور مؤذن مقرر ہو اور پنجگانہ نماز بروقت باجماعت ہوتی ہو وہاں جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے ، مبسوط سرخسی میں ہے:

"قال: (وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیه أهله کرهت لهم أن یصلوا جماعةً بأذان وإقامة، ولکنهم یصلون وحداناً بغیر أذان وإقامة)؛ لحدیث الحسن: قال: کانت الصحابة إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات، ومنهم من صلی في مسجده بغیر أذان ولا إقامة". (مبسوط سرخسی ج۱ ص ۱۳۵)(شامی ج۱ ص۳۶۷ باب الاذان)

نیز جماعت ثانیہ کرنے سے جماعتِ اولیٰ کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے، اصل تو جماعت اولیٰ ہی ہے لوگ سمجھتے ہیں پہلی جماعت ملے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری جماعت کر لیں گے یہ طریقہ غلط ہے‘‘۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے