بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک مرتبہ کسی کو آمدن میں سے حصہ دینے کی صورت میں بار بار اس کا مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

 میں کسی اور کی زمین میں باغبانی کرتا ہوں۔ میں نے اس کے منافع سے اپنے بھائیوں بہن والدہ اور والد کے لیے حصہ مقرر کیا ۔اب میں آئندہ بند کر رہاہوں؟ اب میرے بھائی بہن اور والد والدہ میرے بند کرنے پر راضی نہیں ، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے اپنے حصوں کے مالک بن چکے ہیں۔ کیا اس طرح کوئی شخص مالک بن سکتا ہے ؟ یاد رہے کہ میں نے کسی کو بھی کسی درخت کا قبضہ نہیں دیااور نہ ہی کسی کے لیے کوئی حد بندی کی کہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درخت تمہارے ہیں۔ بس میں نے صرف ان کو آمدن سے حاصل ہونے والے نفع میں حصہ دار ٹھہرایا ہے ۔ کیا میرا اس طرح کرنا تبرع واحسان کہلائے گا یا ھبہ؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب باغبانی سائل خود کرتا ہے اور اس سے آمدن اپنی محنت سے کماتا ہے تو اس باغبانی سے ہونے والے تمام منافع شرعا سائل کے ہیں اور اس میں کسی بھائی، بہن، والد اور والدہ کا حق نہیں ہے۔ سائل نے جو گزشتہ زمانے میں جو حصہ ان کے لیے مقرر کیا اور  ان کو دیتا رہا وہ سائل کی طرف سے تبرع اور احسان تھا، آئندہ سائل اگر نہ دینا چاہے تو سائل کو اختیار ہے اور بھائی، بہن ، والد اور والدہ کو مطالبہ کا حق نہیں ہے۔ہاں والدین اور بہن  اگر مالدار نہیں ہیں اور ان کا نفقہ سائل کے ذمہ ہے تو پھر جتنا نفقہ سائل کے ذمہ ہے وہ سائل کو اپنی آمدن میں سے  دینا لازم ہوگا۔  

نیز ان کے ساتھ پہلے کی طرح  تعاون کرنے اوران پر آئندہ تبرع اور احسان کرنے سے سائل ثواب کا مستحق ہوگا۔

شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المادة (1192) - (كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء.....كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(کتاب العاشر،باب ثالث، فصل اول، ج نمبر ۳، ص نمبر ۲۰۱،دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144510100564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں