بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک مرتبہ کی خدمت پر متعدد بار کمیشن کا حکم


سوال

زید انٹرنیٹ پر امریکہ کے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے، اس نے بکر کو وہاں کا ایک فون نمبر دے کر کہا کہ اس نمبر پر میرے فلاں سٹوڈنٹ کا حوالہ دے کر بات کرو، اور قرآن کی تعلیم دو اور یہ بات طے ہے کہ ان سے ملنے والی آدھی رقم سے ایک ہزار روپے زیادہ بکر ہر مہینے زید کو دے گا اور باقی رقم بکر ہی کی ہوگی۔ اس پر بکر تیار ہو گیا اور سٹوڈنٹ کی تعلیم شروع ہوگئی۔ اور اس تعلیم پر اٹھنے والے تمام اخراجات بکر ادا کرتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ:۱: زید کا صرف فون نمبر اور حوالہ دینے کی وجہ سے ہر مہینے مخصوص رقم لینے کا کیا حکم ہے؟ جب کہ ساری محنت اور اخراجات بکر کے ہیں۔۲: اس سٹوڈنٹ کے حوالے سے آنے والے نئے سٹوڈنٹ میں زید کا کوئی حصہ ہوگا؟ جب کہ ان کے آنے میں زید کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔۳: اگر نئے سٹوڈنٹ آنے پر بکر ان کو تعلیم دے کر رقم وصول کرے اور زید کو نہ بتائے تو اس رقم کا استعمال بکر کے لیے کیسا ہے؟ جب کہ ساری محنت اور اخراجات اور حوالہ بکر کا ہے۔

جواب

صورت مسؤولہ میں مذکورہ بالا طریقے پر زید کو ہر ماہ متعین رقم کی وصولی درست نہیں،۔۲: نہیں، زید کا کچھ حصہ نہیں۔۳: نئے طلباء کے بارے میں زید کو نہ بتانے میں کوئی حرج نہیں اور ان سے ملنے والی رقم کا استعمال بکر کے لیے درست ہے۔ فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 143501200029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں