بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک لاکھ روپے اور آٹھ تولہ سونے پر اس سال کتنی زکوٰۃ بنے گی؟


سوال

اس سال ایک لاکھ پر کتنی زکوٰۃ فرض ہے؟ اگر سونے کے زیورات آٹھ تولے ہیں، تو اس پر کتنی فرض ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اپنے قابل زکوٰۃ اموال کی زکوٰۃ معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کل مالیت کو 40 سے تقسیم کردیا جائے، حاصلِ جواب،  زکوٰۃ کی واجب مقدار ہوگی،یعنی مثال کے طور پر کسی کے پاس ایک  لاکھ روپے ہوں تو وہ ایک لاکھ کو 40 سے تقسیم کرے، تو 2500 جواب آئے گا، یہ 2500 روپے اس شخص کی زکوٰۃ ہے جو کہ  ایک لاکھ کا چالیسواں حصہ، یعنی ڈھائی فیصد ہے۔ 

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی کے پاس ایک لاکھ روپے نقد، اور آٹھ تولہ سونے کے زیورات ہیں، اور ان پر سال بھی گزر چکا ہے، تو اُسے چاہیے کہ پہلے اپنے پاس موجود سونے کے زیورات کی موجودہ قیمتِ فروخت (مارکیٹ ویلیو) معلوم کرلے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جس کیرٹ کا بنا ہوا ہے اس کی قیمت معلوم کریں، پھر اس قیمت کو اپنے پاس موجود سونے کے وزن (مثلاً آٹھ تولہ وغیرہ) سے ضرب دے دیا جائے، جو حاصلِ جواب آئے، اُس میں ایک لاکھ جمع کردیے جائیں، پھر جو حاصلِ جواب آئے، اُسے 40 سے تقسیم کردیا جائے، اس کا جو جواب آئے گا، وہ مذکورہ شخص کی زکوٰۃ ہوگی۔

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"الهداية: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا بلغ نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول."

(كتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة. المادة: ٣٩٣٤. ٣ / ١٣٣ . ط: مكتبة زكريا ديوبند)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و شرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض."

(کتاب الزکوۃ، ٢/ ٢٦٧ط: سعید)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"وفي الولوالجية: يقوم يوم حال عليها الحول بالغة ما بلغت بعد أن كانت قيمتها في أول الحول مائتين ویزکی مائتي درهم خمسة دراهم."

(كتاب الزكاة، فصل زكاة عروض التجارة، ٣ / ١٦٧، ط: مكتبة زكريا بديوبند)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(كتاب الزكاة، ١/ ١٧٨، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وجاز دفع القیمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح."

(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ٢/٢٨٦، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں