بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی شخص کے لیے زکات وصول کرنے اور ادا کرنے کے لیے وکیل بننے کا حکم


سوال

ایک ہی شخص کا زکوٰۃ لینے اور دینے کا وکیل بنناکیساہے ؟

جواب

ایک شخص کا زکات ادا کرنے والوں اور زکات وصول کرنے والوں کی طرف سے وکیل بننا جائز ہے۔

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 271) :

" و حيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي."

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 271):

"(قوله: فإن مانعه إلخ) و الحيلة إذا خاف ذلك ما في الأشباه، وهو أن يوكل المديون خادم الدائن بقبض الزكاة ثم بقضاء دينه، فبقبض الوكيل صار ملكا للموكل."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206201590

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں